اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق 17 دنوں سے عوامی انقلاب کے سامنے نہ جھکنے والے مصری صدر آخر کار جھک گئے۔اس رپورٹ کے مطابق حسنی مبارک اور ان کے نائب عمر سلیمان افواج کے سربراہوں کے اجلاس میں حاضر نہیں ہوئے اور عرب ذرائع کے مطابق ملکی امور اس وقت وزیر دفاع "محمد الطنطاوی" کے سپرد کئے گئے ہیں جبکہ مغربی ذرائع ابھی تک حسنی مبارک کے نائب عمرسلیمان کو اقتدار مین رکھنے پر اصرار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں که حسنی مبارک ملکی انتظام عمرسلیمان کو سونپ رہے ہیں۔ مغربی ذرائع اور الجزیرہ چینل نے کہا ہے کہ حسنی مبارک آج رات استعفا پیش کریں گے جبکہ بعض عرب ذرائع نے کہا ہے کہ مبارک نے ملکی امور فوج اور وزیر دفاع کے سپرد کردیئے۔یاد رہے کہ عمر سلیمان نے کل کہا تھا کہ اگر یہ صورت حال جاری رہی تو فوجی انقلاب کا امکان ہے لیکن مصری افواج نے آج اعلان کیا ہے کہ وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لئے انتظامات کررہی ہیں۔
آمر حسنی مبارک کے وزیر اعظم "احمدشفیق" نے بھی آمر کے استعفے کی تصدیق کردی۔
اس کے بعد کیا واقعات رونما ہونے والے ہیں؟ کیا ہوگا؟ کیا نہیں ہوگا؟ اسرائیل کی نازک صورت حال پر کون روئے گا؟ اسرائیل اپنی غاصبانہ حیات کے لئے مزید کتنی مدت کی پیشین گوئی کرسکے گا؟ جو بھی ہے امر مسلم ہے کہ 4 برسوں سے سوگوار غزہ کے مسلمانوں کی بجائے اب اسرائیل کو سوگ منانا پڑے گا۔
اپڈیٹ:موصولہ اطلاعات کے مطابق مصری آمر حسنی مبارک قاہرہ سے خارج ہوگئے ہیں لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ مجرموں کی تاریخی پناہگاہ "یورپ" چلے گئے ہیں یا پھر شداد کے "باغ اِرَم" یا "شرم الشیخ" چلے گئے ہیں۔ ٭ مصر کے قومی ٹیلی ویژن سے رات کو مصری فرعون کی ریکارڈ شدہ تقریر نشر کرنے کا پروگرام ہے۔٭ مصری عوام کے نعرے میں تبدیلی: ہمیں فوجی نہیں عوامی اور قومی حکومت چاہئے۔ میدان التحریر میں اجتماع برقرار ہے اور فوج کی جانب سے کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آرہی ہے لیکن عوام حسنی مبارک کے جانے کو کافی نہیں سمجھ رہے اور فوری طور پر قومی حکومت کی تشکیل کے خواہاں ہیں۔٭ العالم ویب سائٹ نے مصری انقلابی عوام کا زبردست ساتھ دینے کی پاداش وصول کرلی؛ ویب سائٹ کو نامعلوم ہیکروں نے ہیک کرلیا اور العالم چینل کے انجنئیروں نے عجلت سے اپنی ویب سائٹ بحال کرلی۔٭ اوباما نے ـ توقع کے عین مطابق ـ امریکہ کے پرانے وفادار غلام ـ بھاگتے ہوئے حسنی مبارک ـ سے منہ موڑ لیا اور مصری انقلابی قوم سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوانوں کا انقلاب ہے اور مصر میں نوجوان نسل اپنا ملک تبدیلی کی جانب لے جا رہی ہے۔

..............
/110
امریکی صدر نے عالمی سفارتی آداب کو پامال کرتے ہوئے مصر کو "چھوٹا ملک" قرار دیا اور کہا کہ اس وقت چھوٹے ملک بھی تبدیلی کے راستے پر گامزن ہوچکے ہیں۔ ان کی باتوں سے لگتا تھا کہ وہ "امریکہ" ہی کو بڑا ملک سمجھتے ہیں اور باقی ممالک ان کی نگاہ میں چھوٹے چھوٹے ممالک ہیں۔ شاید وہ اس طرح امریکی رائے عامہ کو بھی مطمئن کررہے تھے کہ "یہ جو ملک امریکہ کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے یہ کوئی بڑا ملک نہیں ہے اور یہ کہ امریکہ مخالف ممالک سب چھوٹے چھوٹے سے ممالک ہیں"۔ انھوں نے اپنے گذشتہ 17 دنوں کے دوران اپنے متضاد بیانات کے برعکس آج مصر کی انقلابی ملت کی تعریف کی اور کہا "ہم مصر میں جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں"۔اوباما نے آخر کار ایک بار پھر اپنے موقف پر ابہام کی چادر چڑھاتے ہوئے کہا: "ہم مصر کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا رونما ہوتا ہے!!"۔