19 مارچ 2010 - 20:30

الجزائر کی حکومت کی پالیسیوں پر عوامی اعتراضات میں اضافے کے بعد صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے وعدہ کیا ہے کہ مستقبل قریب میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے قانون کو ختم کر دیں گے۔

ابنا: الجزائر میں انیس سو بانوے میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی جو اب تک جاری ہے۔ اگرچہ الجزائر میں کئی برس پہلے خانہ جنگی اور داخلی جھڑپوں کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن ایمرجنسی کا نفاذ ایک بہانہ تھا تاکہ الجزائر کے حکمراں اپنے مخالفین اور عوام کو کچل سکیں۔ لیکن اب ایسا نظر آتا ہے کہ الجزائر کی حکومت نے یہ خطرہ محسوس کرتے ہوئے کہ کہیں الجزائر میں بھی تیونس اور مصر جیسی صورت حال پیدا نہ ہو جائے، عوام اور سیاسی جماعتوں کے بعض مطالبات کو پورا کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھایا ہے۔ الجزائر کے صدر بوتفلیقہ نے ایمرجنسی کے خاتمے کے وعدے کے علاوہ اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ الجزیرہ صوبے کے علاوہ الجزائر کے باقی صوبوں اور شہروں میں حکومت سے اجازت حاصل کر کے مظاہرے کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ قومی اور عوامی اداروں اور تنظیموں اور اس کے علاوہ مختلف پارٹیوں اور جماعتوں کی سرگرمیوں کو کوریج دیں اور سیاسی جماعتیں بھی قوانین کا خیال رکھیں۔ بہت سے سیاسی ماہرین کا یہ خیال ہے کہ بوتفلیقہ کے حالیہ اقدامات عوامی مطالبات کو پورا کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔ جنوری کے مہینے میں الجزائر میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے تھے اور بارہ فروری کو بھی ایسے ہی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ الجزائر کے عوام ملک میں ایمرجنسی کا خاتمہ اور ایک کھلی سیاسی فضا چاہتے ہیں۔ الجزائر کے سیاسی و اقتصادی ڈھانچے میں اصلاحات اور تبدیلیاں اس ملک کے عوام کے اہم ترین مطالبے ہیں۔ الجزائر میں اس وقت عوام اٹھ کھڑے ہونے کو تیار ہیں۔ الجزائر کے حکمرانوں نے بھی عوام کی ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد کے پیش نظر ملک کے موجودہ حالات کی حساسیت کا ادراک کر لیا ہے۔ اس بنا پر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے جو الجزائر کی آزادی کی تحریک کو قریب سے دیکھ چکے ہیں اور انہوں نے داخلی خانہ جنگی کے موقع پر اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا تھا، ملک میں اصلاحات کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مسلمہ بات یہ ہے کہ شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے ممالک کو اس وقت عوامی بیداری اور مظاہروں کا سامنا ہے۔ ایسے مظاہرے کہ جن کا پیغام آمریت اور استبداد کا خاتمہ، عوام کے لیے شہری آزادیوں کی ضمانت اور عرب ممالک کے سیاسی نظام کے ڈھانچوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110