مصر میں بحران: البرادعی عبوری مدت کیلئے مضبوط صدارتی امیدوار بن گئے  مصر کے بحران کے حوالے سے یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جس وقت مصر کے عوام ملین مارچ کیلئے سڑکوں پر جمع ہورہے تھے، اس وقت مختلف ایوانوں میں عبوری مدت کیلئے مضبوط صدارتی امیدوار محمد البرادعی زیر بحث تھے۔رپورٹس کے مطابق عوام کے ملین مارچ کے موقع پر حسنی مبارک کے صدارتی عہدے سے استعفے کی پوری امید تھی اور خالی ہونیوالے عہدے پر آئی اے ای اے کے سابق سربراہ محمد البرادعی کا نام لیا جارہا تھا۔ اس سلسلے میں البرادعی کا کہنا ہے کہ ملین مارچ کے روز اعلیٰ فوجی حکام نے البرادعی سے ملاقات بھی کی۔محمد البرادعی نے نئے نائب صدر عمر سلیمان اور اپوزیشن پارٹیز کے کئی نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کیں جبکہ عمر سلیمان نے دیگر اپوزیشن لیڈروں سے بھی اس سلسلے میں بات چیت کی۔ اگرچہ اس وقت حسنی مبارک کے عہدہ صدارت چھوڑنے کے کوئی واضح امکانات نہیں ہیں اور محمد البرادعی بھی ذاتی طور پر عوام میں بہت زیادہ مقبول نہیں ہیں لیکن مصر میں حالیہ بحران اور مستقبل میں کوئی دوسرا راستہ نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت محمد البرادعی ایک مستحکم حکومت کے قیام کے لیے بہت مضبوط امیدوار ہیں۔  مصرمیں حکومت مخالف تحریک اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی10 لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر،تشدد کا ایک واقعہ نہیں ہوامصرمیں حکومت مخالف تحریک اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی ۔ منگل کو دس لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکلے لیکن تشدد کا کوئی ایک واقعہ بھی نہیں ہوا ۔ ملین مارچ جدید مصر کی تاریخ کا وہ واقعہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا ۔ دس لاکھ سے زائد افراد حکومت کے خلاف سڑکوں پر آئے تو صدر حسنی مبارک نے گھبرا کر ستمبر میں اقتدار سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا ۔ غیرملکی نیوزایجنسی کے مطابق دارالحکومت قاہرہ میں پانچ لاکھ افراد ، اسکندریہ میں چار لاکھ اور دیگر شہروں میں ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد نے سڑکوں پر مارچ کیا ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ صدر حسنی مبارک فوری استعفیٰ دیں ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ لاکھوں افراد سڑکوں پر تھے اور سارا دن تشدد کے کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی ۔ تاہم رات گئے اسکندریہ میں مظاہرین پر فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہوگئے ۔ عرب ٹی وی کے مطابق فائرنگ حکومت کے حامیوں نے کی جس کے بعد فوجی جوان صورتحال پر قابو پانے کے لئے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نوی پلےNavi Pillay کے مطابق گذشتہ آٹھ روز کے دوران تقریباً تین سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ زخمیوں کی تعداد تین ہزار سے زائد ہے ۔ حالات کے پیش نظر مصر سے غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل بھی جاری ہے ۔ امریکا ، برطانیہ ، آسٹریلیا ، روس ، یونان اور چین سمیت دیگر ممالک اپنے شہریوں کو مصر سے نکال رہے ہیں ۔   .......ابنا: جنگ سے معذرت کرتے ہوئے عرض ہے کہ مظاہرین کی تعداد اسی لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے .......حسنی مبارک عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں، البرادعی  مصری عوام اور اپوزیشن رہنماؤں نے صدر حسنی مبارک کی طرف سے آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے ان کے خطاب کو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ دارالحکومت قاہرہ میں التحریر چوک اور دیگر شہروں میں دھرنا دیئے ہوئے لاکھوں مظاہرین نے صدر حسنی مبارک کی تقریر مسترد کردی۔ عرب ٹی وی کے مطابق مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ صدر مبارک کے فوری استعفیٰ سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے اور مزید ایک دن بھی انہیں اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے۔ اپوزیشن رہنما محمد البرادی نے حسنی مبارک کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے مایوس کن قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ صدر مبارک ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ محمد البرادی نے کہا کہ ملک کو انارکی سے بچانے کے لئے صدر مبارک کو ہر صورت میں استعفیٰ دینا پڑے گا ورنہ حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔حسنی مبارک کو جمعے تک کی مہلت؛ محمد البرادعیمصر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حسنی مبارک کے مخالفین نے کہا کہ مبارک کو جمعے تک ملک چھوڑدینا ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر البرادعی نے کہا کہ عوام نے جمعے کو مبارک کے مصرسے جانے کا دن قراردیا ہے لھذا حسنی مبارک کو جمعےتک مصر سے چلا جانا چاہیےادھر مجلس اعلائے آل البیت مصر کے سر براہ محمد الدرینی نے کہا ہےکہ حسنی مبارک کے خلاف مصری عوام کا انقلاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام حقیقی اسلام کی حکومت چاہتے ہیں۔مجلس اعلائے آل البیت کے سربراہ نے عوامی انقلاب کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کا حق ہے اور مصری حکام کو ان کے کئے کی سزا ملنی چاہیے۔محمد الدرینی نے کہا ہےکہ برسوں کے جھوٹ، ظلم وستم اور بد عنوانی کرنے کے بعد اب ملت مصر اٹھ کھڑی ہوئي ہے اور مصر امت اسلامی کی آغوش میں واپس آرہا ہے۔مصری فرعون مصری فرعون حسنی مبارک کی درخواست مصری عوام نے مسترد کردی غزہ میں فلسطینی مسلمانوں کے خلاف محاصرہ تنگ ترکرنے میں مصری فرعون حسنی مبارک نے مصری عوام کی امنگوں کو نظر انداز کیا اور اس وقت اسرائیل کا بھر پور ساتھ دیکرمصری عوام کے مطالبات کو رد کیالیکن آج مصری عوام نے حسنی مبارک کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئےمصری فرعون کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کیا ہے۔ کل رات مصری فرعون نے ٹی وی پر تقریر کرتے ہوئے مصری عوام سے درخواست کی کہ وہ اسے کچھ مدت تک مہلت دےدیں اور وہ اقتتدار کو  منتقل کردیں گے  لیکن مصری عوام نے حسنی مبارک کی اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مصری فرعون پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔مصری فرعون اور امریکی و اسرائیلی آلہ کارحسنی مبارک سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین نے حسنی مبارک کے اس اعلان کو رد کر دیا ہے کہ وہ اگلے صدارتی انتخابات میں امیدوار نہیں ہونگے۔ انہوں نے صدر مبارک کے اقتدار سے علیحدہ نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کو صدراتی محل تک لے جانے کی دھمکی دی ہے۔منگل کو رات گئے سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر مبارک نے اعلان کیا کہ ستمبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں وہ امیدوار نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے لاکھوں افراد نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں ہونے والے کئی ملین مارچ میں شرکت کی۔ مظاہرین صدر حسنی مبارک سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ لوگوں کا ہجوم مصری پرچم لہراتے ہوئے اور قومی نغمے گاتے ہوئے احتجاج میں شریک ہوا۔ قاہرہ کے علاوہ سکندریہ اور سویز میں بھی صدر مبارک کے خلاف بڑی بڑی ریلیاں نکالی گئی ہیں۔ادھر مصری فوج نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے احتجاج میں پر امن رہیں کیونکہ پوری دنیا کی نظریں ان پر ہیں۔ التحریر سکوائرپر دو ملین افراد جمع ہیں۔ ادھر فوج نے بھی عوام پر گولی چلانے سے انکار کردیا ہے لیکن بعض ذرائع کے مطابق اسرائیلی کمانڈوز قاہرہ پہنچ چکے ہیں جن کی وجہ سے مخالف رہنماؤں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوگیا ہے۔ ادھر مغربی ممالک مصری فرعون کا نعم البدل تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں اور مصری اور تیونسی عوام کے انقلاب کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوششش کررہے ہیں تاکہ مصر میں کوئي ایسی حکومت نہ آجائے  جو اسرائیل کے لئے خطرہ بن جائے۔ دیکھئے مصری عوام  کی محنتیں اور قربانیاں کیا رنگ لاتی ہیں۔ مصری فرعون کے خلاف مصری عوام سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور حسنی مبارک کی گرفتاری اور استعفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔اوبامہ کا فریب اقتدار ہمارے کسی دوست کو جلدی سے منتقل کردو امریکہ کے صدر باراک اوبامہ نے مصر میں عوامی لہر سے خوفزدہ ہوکر اپنے دوست جسنی مبارک اور مصری فرعون سے کہا ہے کہ ابھی سے آہستہ طور پر اقتدار ہمارے کسی دوسرے دوست کو منتقل کردو تاکہ عوام کا غم و غصہ ٹھنڈا ہوجائے اور اسرائیل کے لئے کوئی نئی پریشانی کھڑی نہ ہو۔ امریکہ مصر میں تبدیلی نہیں چاہتا بلکہ اصلاحات چاہتا ہے جبکہ مصری عوام ملک کے پورے نظآم میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ امریکی صدر کا بیان مصر کے صدر حسنی مبارک کے اس اعلان کے بعد آیا ہے جس میں صدر مبارک نے کہا تھا کہ وہ آئندہ انتخابات میں صدارت کے لیے امیدوار نہیں ہونگے البتہ وہ ستمبر میں انتخابات کے وقت تک صدارت کا عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔ پیر کو مصر میں امریکہ کے سابق سفیر فرینک وائسنر نے صدر مبارک کو امریکی صدر کا پیغام پہنچایا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آئندہ انتخابات میں نہ صدر مبارک اور نہ ہی ان کا بیٹا جمال مبارک کو امیدوار ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ جب تک مصری فرعون کا کوئی نعم البدل نہ مل جائے اس وقت تک حسنی مبارک کی در پردہ حمایت جاری رکھی جائے امریکہ کو ایسا دوست درکار ہے جو مصر اور اسرائیل کے تمام معاہدوں کی پاسداری کرے لیکن اگر وہاں اسلامی انقلاب کامیاب ہوجاتا ہے اور مصری عوام امریکہ اور اسرائیل کے فریب میں نہیں آتے تو مشرق وسطی کا عظيم نقشہ اسلامی خطوط پر استوار ہوگا۔ جس میں امریکہ اور اس کے حامیوں کا کوئی وجود اور نشان نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110