اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق طالبان دہشت گردوں نے وزیرستان سے آ کر لوئر کرم کے مقامی طالبان دہشت گردوں کی مدد سے بالش خیل سمیت کئی علاقوں پر مسلح یلغار کرکے شیعہ قبائل پر حملہ کیا جس کے فوراً بعد شیعہ قبائل نے اس حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے طالبان دہشت گردوں کا حملہ پسپا کرتے ہوئے دہشت گردوں کو مار بھگایا۔واضح رہے کہ شیعہ مدافعین نے طالبان دہشت گردوں کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کرتے ہوئے مار بھگایا اور وہ 20 لاشیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔تازہ ترین اطلاعات کے موصول ہونے تک کئی علاقوں میں شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں تاہم وہابی ناصبی طالبان دہشت گردوں کو شکست کا سامنا ہے۔دوسری جانب اسپتال ذرائع کاکہنا ہے کہ طالبان دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شیعہ قبائل کے 6 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔طالبان کی جانب سے یہ جارحیت سرکاری جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یاد رہے کہ جمعہ کے دن مقامی عمائدین اور حکومت نے علاقے میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور طے پایا تھا کہ ٹل پاراچنار روڈ 24 گھنٹوں کے لئے کھول دیا جائے گا تا ہم طالبان نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتےہوئے ہفتے کو باغان گاؤں کے نزدیک روڈ بند کردیا ۔طالبان کا دعوی ہے کہ انھوں نے روڈ کھولنے پر اتفاق نہیں کیا تھا۔ طالبان کے اس جارحانہ اقدام کے بعد مقامی باشندوں نے وزیرستان، اورکزئی اور خیبر کے طالبان دہشت گردوں کی مدد سے سدہ اور خارکلی سے شیعہ علاقوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں چار شیعہ مدافعین زخمی ہوئے اور دہشت گردوں نے اپنے 20 ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہونے میں عافیت سمجھی اور پسپا ہوگئے۔واضح رہے کہ پاکستان کی حمایت یافته طالبان اور ان کے مقامی حامیوں نے عرصہ چار سال سے پاراچنار کا محاصرہ کررکھا ہے؛ اس عرصے میں تقریباً ساڑھے بارہ سو شیعہ مظلومین شہید ہوگئے ہیں اور سینکڑوں افراد علاج معالجے کی سہولیات اور خوراک کی کمی کی وجہ سے جام شہادت نوش کرگئے ہیں لیکن حکومت پاکستان اس علاقے کے مظلوم اور محب وطن شہریوں کی صدائے مظلومیت سننے کی بجائے اپنی پوری طاقت استعمال کرکے مقامی شیعیان اہل بیت (ع) کو طالبان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور انہیں افغانستان تک جانے اور آنے کا راستہ دینے پر آماده کرنے پر صرف کررہی ہے۔
بشکریہ از شیعیت نیوز........./110