29 جنوری 2011 - 20:30

امریکہ اور اسرائیل نواز مصری نظام حکومت اور آمر حسنی مبارک کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے مظاہروں کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد سو سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ 2000 سے زائد زخمی ہیں؛ اور ہزاروں افراد گرفتار۔

ابنا: 2000 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں اور ہزاروں افراد کو حکومت نے گرفتار بھی کیا ہے لیکن عوامی مظاہرے جاری ہیں۔ احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ جاری ہے جس میں وقت گذرنے کے ساتھ مزید شدت آتی جارہی ہے۔ مصر میں احتجاجی مظاہروں کا آج چھٹا روز ہے۔ ہفتے کو پرتشدد واقعات میں مزید 33 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 102 ہو گئی ہے ۔ کرفیو کے باوجود قاہرہ ، سوئز ، اسکندریہ ، اسماعیلیہ  اور دیگر شہروں میں لوگ سڑکوں پر ہیں ۔ صدر حسنی مبارک کی طرف سے نئی حکومت کی تشکیل اور اصلاحات کے وعدوں کے باوجود حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آرہی ہے ۔ ہزاروں افراد زخمی ہیں جن میں سیکیورٹی اہل کاروں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے ۔ لوٹ مار کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ مرکزی بینک نے لوٹ مار سے بچنے کے لئے اتوار سے بینکوں میں تعطیل کا اعلان کردیا ہے۔ مظاہرین حسنی مبارک سے استعفی کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ حسنی مبارک اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں اور انھوں نے کابینہ تحلیل کرکے نئی کابینہ بنانے کا اعلان کیا ہے لیکن مصری عوام نے آمریت سے چھٹکارا پانے کے سوا کسی چیز پر راضی ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ امریکہ ، اسرائیل اور یورپی ممالک حسنی مبارک کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ مصری عوام نے عظيم قربانی دیکر مصری فرعون اور امریکی اور اسرائیلی طاغوت کے خاتمے کا عزم بالجزم کر رکھا ہے۔

بشکریه از مهر نیوز ایجنسی

.........

/110

- مصری انتفاضہ تصویروں کے زبانی - 1

- مصری انتفاضہ تصویروں کے زبانی - 2

- مصری انتفاضہ تصویروں کے زبانی - 3