ابنا: موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ دہشتگردانہ بم دھماکے ان زائرین کے راستے میں ہوئے ہیں جو پائے پیادہ حضرت سید الشہدا علیہ السلام کی زیارت کے لئے کربلا جارہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس سال کربلا میں شہدائے دشت نینوا کے اربعین کے موقع پرکربلا میں دس ملین زائر کے اجتماع کی توقع کی جارہی ہے۔قبل ازیں بھی کربلا کے مضافات میں تکفیری دہشت گردوں نے بم دھماکوں میں 57 زائرین شہید اور دوسو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔عراقی حلقوں کاکہنا ہےکہ قابض افواج اوربعض عرب ممالک دہشت گردوں کی مالی اور لاجسٹیک مدد کررہےہیں۔عراق میں پکڑے جانے والے دہشتگردوں میں سعودی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
........
/110