23 جنوری 2011 - 20:30

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شہریوں نے جلوس نکال کر اسلام آباد حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ قبائلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون حملوں کا سدباب کرے۔

ابنا: شمالی وزیرستان میں واقع شہر میر علی میں نکالے جانے والے جلوس میں مظاہرین نے امریکہ کے خلاف نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی مذمت کی۔
گزشتہ تین دنوں کے دوران شمالی وزیرستان میں نکالا جانے والا یہ تیسرا جلوس تھا۔
جمعے کے دن بھی ہزاروں افراد نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں مظاہرے کر کے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کیا تھا اور اسلام آباد حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان حملوں کی روک تھام کے لئے سنجیدگی کے ساتھ اقدام کرے اور صرف ذرائع ابلاغ میں ان حملوں کے خلاف اعتراض کرنے پر اکتفا نہ کرے۔ لیکن اس کے باوجود امریکی فوجیوں نے پاکستان کے عوام کی مخالفت کو خاطر میں نہ لاکر قبائلی علاقوں پر اپنے حملے جاری رکھے اور تقریبا دس افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور دسیوں کو زخمی کیا۔
پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے امریکی ڈرون حملوں کو عالمی قوانین کے منافی قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں عام شہریوں کے قتل عام کی وجہ سے دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
اس سے پہلے بھی عالمی تنظیموں کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون حملوں کو بارہا عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جا چکا ہے کیونکہ امریکہ پاکستان کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی میزائل حملے درحقیقت پاکستان کی خود مختاری اور اقتدار اعلی کے منافی ہیں لیکن امریکہ پاکستان کے اندر کئے جانے والے احتجاجات اور عالمی حلقوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کی پرواہ کئے بغیر پاکستان کے قبائلی علاقوں پر اپنے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرونز کا حالیہ حملہ رواں سال سے اب تک امریکہ کا ساتواں حملہ ہے۔ نتیجتاً رواں مہینے جنوری میں قبائلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون حملوں میں 50 افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ 80 سے زیادہ زخمی ہوۓ ہیں۔
پاکستان کے مقامی ذرائع کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2010 میں پاکستان کے شمال مغربی علاقوں پر امریکہ کے ایک سو اٹھارہ حملوں میں تقریباً ایک ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
امریکہ کے ڈرون حملوں میں زیادہ تر عام شہری خصوصا بچے اور خواتین ماری جاتی ہیں اس لۓ پاکستانی عوام توقع رکھتے ہیں کہ حکومت پاکستان عالمی اداروں میں امریکہ کے ڈرون حملوں کے خلاف مقدمہ پیش کرکے ان حملوں کا سدباب کرے گی۔

- پاکستان کی طرف سے ڈرون حملوں کی مخالفت نمائشی ہے

.........

/110