13 جنوری:سلفی وہابی دہشتگردوں کی فائرنگ ،شیعہ نوجوان ساجد حسین شہید کراچی کے علاقے سائٹ ٹاؤن میں کالعدم سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور طالبان دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے ایک شیعہ نوجوان ساجد حسین کو شہید کر دیا۔اطلاعات کے مطابق بدھ کی شب کراچی کے علاقے سائٹ ٹاؤن میں کالعدم دہشتگرد جماعتوں سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور طالبان سلفی دہشت گردوںنے فائرنگ کرتے ہوئے 29سالہ شیعہ نوجوان ساجد حسین ولد شاہ ولی کو شہید کر دیا تھا ،واضح رہے کہ شہید کی شناخت آج اہل خانہ نے مقامی اسپتال میں کی ہے۔سائٹ ٹاؤن میں مقامی لوگوںنے شیعت نیوز کے نمائندے کو بتایا ہے کہ موٹر سائیکل سوار ناصبی درندوں نے ساجد حسین پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر گھر جارہے تھے۔ شہید کے جسم اور سر میں متعدد گولیاں لگنے سے شہادت واقع ہوئی ہے۔شہر بھر میں گذشتہ ایک ہفتے میں (یعنی 7 جنوری سے 13 جنوری تک) 6 سے زائد شیعہ نوجوانوں کو کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت طالبان دہشت گرد سفاکیت کا نشانہ بنا چکے ہیں تاہم تا حال حکومت کی جانب سے بے حسی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ جعفریہ الائنس پاکستان، مجلس وحدت مسلمین پاکستان، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان، امامیہ آرگنائزیشن پاکستان، مرکزی تنظیم عزاء اور دیگر انجمنوں نے شہر بھر میں جاری شیعہ نوجوانوں اور عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کو حکومت کی نا اہلی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فی الفور دہشت گرد گروہوں کالعدم سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور طالبان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کیا ہے۔ کراچی:دہشت گردی کا سلسلہ جاری،سید انور شیرازی شہید کراچی کے علاقے سراج کالونی لیاری ٹاؤن میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور طالبان دہشت گردوں کی فائرنگ سے شیعہ بزرگ سید انور شیرازی شہید ہو گئے ہیںجمعرات کے روز کراچی کے علاقے سراج کالونی لیاری ٹاؤن میں کالعدم دہشت گرد گروہوں کے ناصبی دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے 60سالہ شیعہ بزرگ سید انور شیرازی ولد سید محرم علی شیرازی کو شہید کر دیاہے۔عینی شاہدین کے مطابق کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی سلفی وہابی درندوںنے سید انور شیرازی کو اس وقت دہشت گردی کا نشانہ بنایا جب وہ اپنے گھر کے لئے سراج کالونی سے جا رہے تھے ،شہید کے جسم اور سر میں پانچ گولیاں لگی ہیں جس کے نتیجہ میں ان کی شہادت واقع ہوئی ہے۔13 جنوری کو ہی کراچی میں:شیعہ آبادی پر طالبان دہشت گردوں کا حملہ،پہلوان گوٹھ فائرنگ سے گونجتا رہا کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں واقع شیعہ آبادی جو کہ پہلوان گوٹھ کے نام سے مشہور ہے طالبان دہشت گردوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے دہشت گردوں سے مل کر حملہ کر دیا۔ کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں واقع پہلوان گوٹھ کی رہائشی شیعہ آبادی پر عوامی نیشنل پارٹی کے دہشت گردوں سمیت وہابی ناصبی اور طالبان دہشت گردوں نے حملہ کر دیا علاقے کی بجلی بھی منقطع کردی اور دوسری طرف سے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لیا۔رپورٹ کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے سینکڑوں مسلح دہشت گردوں سمیت ناصبی، سلفی وہابی اور طالبان دہشت گردوںنے - جو کہ وزیرستان سے کراچی پہنچے ہوئے ہیں - کراچی کے مختلف علاقوںسے جمع ہو کر جمعرات کی صبح پہلوان گوٹھ کی شیعہ آبادی پر براہ راست فائرنگ کی اور متعدد گھروں پر حملے بھی کئے جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا گیا۔دوسری جانب پہلوان گوٹھ کی شیعہ آبادی اپنے ہی گھروں اور علاقے میں محصور ہو کر رہ گئی جبکہ دہشت گرد مسلسل فائرنگ کرتے رہے۔ پہلوان گوٹھ کے رہائشی شیعہ عالم دین اور جعفریہ الائنس پاکستان کے سینئر رہنما مولانا رجب علی بنگش نے علاقے پر عوامی نیشنل پارٹی میں موجود ناصبی اور طالبان دہشت گردوں کی جانب سے پہلوان گوٹھ میں شیعہ آبادی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا دہشت گردوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور پہلوان گوٹھ میں شیعہ آبادی کو ان دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کروایا جائے۔مولانا رجب علی بنگش نے پولیس اور رینجرز کے یک طرفہ رویئے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس ،رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے فرائض سے کوتاہی برت رہے ہیں اور دہشت گردوں کو نہ صرف مدد فراہم کر رہے ہیں بلکہ ان کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں تا کہ وہ پوری آزادی سے شیعہ آبادی کو نشانہ بنائیں۔ان کاکہنا تھا کہ دہشت گرد شیعہ آبادی پر حملے میں نہ صرف بھاری ہتھیار وں کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں بلکہ علاقے کی مساجد سے شیعہ آبادی پر حملے کے اعلانات بھی کر رہے ہیں۔ مولانا کاکہنا تھا کہ پولیس اور رینجرز علاقے میں امن وامان قائم کرنے اور عوام کو سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110