11 جنوری 2011 - 20:30

جامعہ کراچی میں دو ہفتے قبل ہونے والے دھماکے کے بعد اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ اور حساس اداروں نے کاروائی کرتے ہوئے دھماکے میں ملوث کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے تین کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ نے جامعہ کراچی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے کارکنوں پر دوران نماز ہونے والے بم دھماکے میں ملوث تین خطر ناک دہشت گردوںمحمد عمر ولد  میجر اسلم چوہدری،(طالب علم شعبہ فوڈ اینڈ سائنس)،حفیظ اللہ ولد نعمت اللہ (طالب علم شعبہ بین الاقوامی تعلقات،سال اول) اور محمد فیض جو کہ جامعہ کراچی کا طالب ریگولر طالب علم نہیں ہے کو گرفتار کر لیا ہے اور مبینہ طور پر ٹاؤن تھانے کے حوالے کر دیا ہے جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔ واضح رہے کہ 28دسمبر 2010ء کو جامعہ کراچی میں مین کیفے ٹیریا کے ساتھ دھماکہ اس وقت ہوا جب امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے کارکنان نماز ظہرین کی ادائیگی کے لئے صفوں پر موجود تھے۔اسی اثناء میں پہلے سے صفوں کے ساتھ نصب کیا گیا ایک بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجہ میں چار طالب علم شدید زخمی ہوئے تھے جن میں سے دو کی حالت تا حال نازک بتائی جا رہی ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار کئے گئے تینوں افراد کا تعلق ایک مذہبی دہشت گرد طلباء تنظیم سے ہے ۔یہ بات قابل غور ہے کہ تین دہشت گردوں میں سے ایک حفیظ اللہ ولد نعمت اللہ کا بڑا بھائی جو کہ خود بھی ایک مذہبی دہشت گرد طلباء تنظیم کا کارکن تھا ،چھ ماہ قبل وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوا تھا۔

شیعت نیوز

جامعہ کراچی میں دھماکہ موبائل فون کےذریعے کیا،ملزمان کا بیان  جامعہ کراچی دھماکے کے گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی اور رینجرز کے بعض دفاتر پر حملوں کی بھی تیاری کر رکھی تھی اور اس کی باقاعدہ ریہرسل بھی کی تھی ۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان کا تعلق پنجابی مجاہدین گروپ سے ہے جو ایک طلبہ تنظیم کے باغی ارکان نے دو ہزار سات میں بنایا تھا۔ ملزمان میں حفیظ اللہ عرف بلال، محمد عمر عرف چھوٹا اور فیض علی شامل ہیں اور ان کا تعلق ڈاکٹر برادران گروپ سے ہے۔ ملزمان نے پچیس دسمبر کومنصوبہ بندی کے بعد اٹھائیس دسمبر کو تعمیراتی بلاک میں بم نصب کیا اورموبائل فون کے ذریعے دھماکہ کیا۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزمان کا ریمانڈ کل لیا جائے گا۔ 

جنگ رپورٹ