ابنا: سوڈان کو تقسیم کرنے کی امریکی اور اسرائیل کوششیں بہت پہلے سے جاری تھیں امریکہ نے سوڈان پر ریفرنڈم کرانے کے لئے سخت دباؤ قائم کیا ریفرنڈم کے نتیجے میں افریقہ کے سب سے بڑے ملک کی مذہبی بنیاد پر تقسیم کا امکان ہے۔افریقہ اور عرب دنیا کے سب سے بڑے ملک سوڈان کے جنوبی علاقے میں آج آزادی ریفرنڈم کے لئے ووٹ ڈالے جارہے ہیں ۔ ریفرنڈم کے ذریعے اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ حصہ خود مختار بنے گا یا دارالحکومت خرطوم سے منسلک رہے گا ۔صبح سے پولنگ جاری ہے۔چالیس لاکھ کے قریب ووٹرزاپناحق رائے دہی استعمال کرنے لمبی قطاروں میں لگ گئے۔ریفرنڈم کیلئے ووٹنگ سات دِن تک جاری رہے گی۔آج پہلے دن جنوبی سوڈان کے رہنما سالوا کییر نے اپناووٹ کاسٹ کیا۔تاریخی ریفرنڈم2005میں سوڈان کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان ہونیوالے امن معاہدے کا اہم حصہ تھا، جس کے نتیجے میں افریقہ کے طویل ترین تنازع کا خاتمہ ممکن ہوا تھا۔ریفرنڈم کے موقع پر سوڈان میں اہم عالمی شخصیتیں موجود ہیں، جن میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر، اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان اور ہالی ووڈ اسٹار جارج کلونی شامل ہیں۔ 27 ملین آبادی والے سوڈان کاوہ حصہ جوعیسائیوں کی اکثریت پرمشتمل ہے اورمسلم اکثریتی آبادی والے شمال سے آزادہوناچاہتاہے۔ جنوب کے بعض علاقوں میں پہلے ہی آزادی کاجشن شروع ہوگیا جس سے ریفرنڈم کے نتیجے کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔سوڈان کے شمال میں عرب مسلمان اور جنوب میں افریقی مسیحی اکثریت میں ہیں ۔ سوڈان کو1956 میں برطانیہ سے آزادی ملی تھی تب سے ہی شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان مذہبی ، نسلی ، نظریاتی اور وسائل کی تقسیم پرتنازعات جاری رہے جن میں لاکھوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھرہوچکے ہیں ۔2005 میں دونوں خطوں کے درمیان امن معاہدہ ہوا امن معاہدے کے تحت جنوبی سوڈان کو نیم خودمختاری دی گئی اور ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ اسی ریفرنڈم کیلئے آج ووٹ ڈالے جارہے ہیں اور ووٹنگ کا عمل سات دن تک جاری رہے گا ۔اگر جنوبی سوڈان کے عوام کی اکثریت نے آزادی کے حق میں ووٹ دیئے تو دنیا کا193واں ملک وجود میں آجائیگا، اور اس طرح امریکہ اور اسرائیل کا سوڈان کو تقسیم کرنے کا منصوبہ مکمل ہوجائے گا۔ عیسائيوں کو امیرکہ اور اسرائیل بھاری مقدار میں ہتھیاروں اور اسلحہ کی امداد کی اور امریکہ تیل سے مالامال جنوبی سوڈان کے لئے نئے حواب دیکھ رہا ہے۔.........
/110