17 اکتوبر 2026 - 09:24
یمنی آبنائے باب المندب پر قبضے کا ناکام سعودی منصوبہ - 1

انصاراللہ کی افواج کے دباؤ کی وجہ سے، ریاض کی کرائے کی افواج کے پسپا ہونے اور سعودی اجرتیوں کی میدانی شکست کے بعد، آبنائے باب المندب پر دوبارہ قبضے کا سعودی منصوبہ ناکام ہو گیا؛ اس دوران ان گروہوں کے درمیان اس شکست کے اسباب پر ایک دوسرے پر الزامات کی شدت بڑھ گئی ہے جو آل سعود اور آل نہیان کے ریالات و دراہم کی خاطر ریاض اور ابو ظہبی کی خاطر اپنی سرزمین بیچنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ لبنانی اخبار 'الاخبار' کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب کا یمن کے آبنائے باب المندب پر دوبارہ قبضہ کرنے کا منصوبہ ایک بار پھر شکست سے دوچار ہو گیا ہے؛ کیونکہ جن ملیشیاؤں نے سعودی حکمرانوں کو وعدہ دیا تھا کہ وہ اس بین الاقوامی آبنائے کو چند دنوں میں واپس لے لیں گی، وہ اس کے جنوب میں اپنے پہلے والے ٹھکانوں کو بھی برقرار نہ رکھ سکیں اور اپنے پرانے مورچوں سے بھی پسپا ہو گئے۔

اس دوران سعودی فضائیہ نے ان کی بھرپور پشت پناہی کی؛ ایسی مدد جو "جلی ہوئی زمین" کی پالیسی تک بھی پہنچ گئی اور جس کا مقصد جزیرہ میون کے قریب ترین مقام تک پیش قدمی کا راستہ ہموار کرنا تھا، مگر لاحاصل۔

ریاض کے اندازوں اور پیش گوئیوں کے برعکس، انصاراللہ کی افواج اپنی کامیابیوں کو مغربی ساحل اور باب المندب کے علاقے میں برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں اور اس آبنائے اور ضلع ذوباب کے ساحلی علاقوں میں اپنی دفاعی پوزیشنوں کو جارحانہ پوزیشنوں تبدیل کر دیا۔

نتیجتاً، سعودیوں کی اجرتی ملیشیا "العمالقہ" (جو درحقیقت امارات سے وابستہ تھی اور وفاداری بدل کر سعودیہ سے وابستہ ہو گئی ہے) نیز "درع الوطن" ملیشیا، جنہیں سعودی کمان نے اس مشن کی انجام دہی کے لئے منتخب کیا تھا، باب المندب کے جنوب میں اپنی پوزیشنوں سے پسپا ہونے پر مجبور ہو گئیں۔

اس سے قبل، سعودی میڈیا اور یمن میں ریاض کی کٹھ پتلی حکومت کے ہاں سعودی سفیر محمد آل جابر نے آبنائے اور جزیرہ میون پر ریاض کی اجرتی ملیشیاؤں کے قبضے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا، اور یہ دعویٰ، دو دن پہلے اس جزیرے پر سعودیوں کے شدید فضائی حملوں کے بعد سامنے آیا؛ ایسے حملے، جنہوں نے اس جزیرے کی طرف کسی بھی پیشقدمی کے حصول میں سعودیہ سے وابستہ دہشت گرد سلفی ٹولوں کی شکست کو آشکار کر دیا۔

صنعاء میں ایک فوجی ذریعے نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ میون پر سعودی حملہ آبنائے باب المندب میں بحری جہازرانی کی سلامتی کو متاثر کر دیتا ہے۔ اس فوجی ذریعے نے ریاض کو بحری جہازرانی کی سلامتی کمزور کرنے اور بین الاقوامی تجارتی راستے کو خطرے سے دوچار کرنے، کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: پریسا فیضی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha