28 دسمبر 2010 - 20:30

افغان جنگ اب امریکی اور اتحادی افواج کے لیے ایک نئی پریشان کن صورت حال سے دوچار ہے، پاکستان اور افغانستان کے دونوں اطراف کی عسکریت پسند تنظیمیں اور باغی گروپ امریکی و اتحادی افواج کے خلاف کارروائیوں میں مشترکہ منصوبہ بندی پر عمل کر رہے ہیں۔

ابنا: امریکی اخبار’نیو یارک ٹائمز کے مطابق افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے دونوں اطراف حریف عسکری تنظیمیں تیزی سے حملہ کرنے کے لیے منظم ہو رہی ہیں۔فوج اور انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے کئی ماہ مایوس کن حملوں کے بعدباغیوں نے دوبارہ قوت پکڑ لی ہے۔خطے کی نئی انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق باغی اب اپنی تاریخی رقابتوں کو ایک اتحاد کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ایسے گٹھ جوڑ پہلے دیکھنے میں نہیں آئے۔ مشرقی افغانستان کی ایک چیک پوسٹ پر حالیہ حملے میں مرنے والے عسکریت پسندوں کی تحقیق سے یہ شواہد ملے ہیں کہ جنگجو تین مختلف دھڑوں سے تعلق رکھتے تھے۔ماضی میں عسکریت پسندوں کے مختلف دھڑے صرف نظریات اور لائحہ عمل کا تبادلہ خیال کرتے تھے لیکن اب وہ اکھٹے خاص مشن کی منصوبہ بندی اور اس پر مشترکہ عمل بھی کرتے ہیں۔انٹیلی جنس حکام کو اس نئی صورت حال نے پریشان کر دیا ہے اب عسکر یت پسند کمانڈروں اور باغی تنظیمیں مشترکا حملے کر رہی ہیں۔ 

.........

/110