25 دسمبر 2010 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے پیر کی شام پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور پاکستان کی سرزمین پر دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں کے سلسلے میں اسلام آباد کی ذمہ داریوں پر زور دیا۔

ابنا: ڈاکٹر احمدی نژاد نے پاکستانی حکومت سے یہ درخواست بھی کی کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کو مطلوب دہشت گردوں کی فوری گرفتاری اور انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے حوالے کرنے پر مامور کرے۔ ایران کے جنوب مشرقی شہر چابہار میں تاسوعا کے روز دہشت گردوں نے عزاداروں کے اجتماع پر حملہ کر کے دسیوں افراد کو شہید اور زخمی کر دیا تھا جن میں کم سن بچے اور عورتین بھی شامل تھیں۔ اس حملے کی ذمہ داری جنداللہ دہشت گرد گروہ نے قبول کی تھی۔ یہ گروہ اس سے قبل بھی ایران میں دہشت گردی کی کئی کارروائیاں انجام دے چکا ہے اور پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں اس نے اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور وہیں سے وہ ایران کے اندر کارروائیاں کر رہا ہے۔ اس گروہ کے سرغنہ عبدالمالک ریگی نے جو اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے ، ایرانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اپنے اعترافات میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ غیرملکی طاقتیں اسے ایران کے خلاف استعمال کر رہی تھیں اور اسے اسلحے سمیت ہر قسم کی مدد بھی فراہم کر رہی تھیں۔ اس طرح وہ نہ صرف ایران کے حالات خراب کرنا چاہتی تھیں بلکہ دو برادر ہمسایہ ملکوں ایران اور پاکستان کے تعلقات کو بھی خراب کرنا چاہتی تھیں لیکن دونوں ملکوں کے عوام اور حکام کی ہوشیاری کی بدولت وہ اب تک اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اس قسم کے دہشت گرادانہ اقدامات کی ایک وجہ ایران کے اسلامی جمہوری نظام سے سامراجی طاقتوں کی دشمنی ہے اور وہ اپنے ان اقدامات کے ذریعے ایران کے اندر شیعہ اور سنی بھائیوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈالنا چاہتی ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب سے علاقے میں امریکی اور نیٹو فورسز آئی ہیں ان کی حمایت سے دہشت گردی نے اس علاقے میں فروغ پایا ہے۔ یہ ایسے حالات میں ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر کوئی مؤثر اقدام بھی نہیں کیا گيا ہے۔ نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے موقع پر ایک غیرانسانی اقدام میں چابہار کے بچوں اور خواتین سمیت متعدد بےگناہ افراد کی شہادت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دہشت گردی کے اس واقعے کو انجام دینے والے نہ صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ کسی بھی دین پر یقین و اعتقاد نہیں رکھتے ہیں۔ درحقیقت جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے اس واقعے کی مناسبت سے اپنے پیغام میں فرمایا کہ دشمن مسلمانوں کا اتحاد اور عالم اسلام کا اقتدار دیکھنا نہیں چاہتے ہیں اور وہ وحدت اسلامی اور قیام عاشورا کے درس سے خوفزدہ ہیں۔ایران کی مسلح افواج کے سربراہ سید حسن فیروزآبادی نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر حکومت پاکستان نے اپنی سرحدوں اندر دہشت گردی کے اقدامات کو روکنے اور کنٹرول کرنے میں کوتاہی کی تو ایران اپنا جائز اور قانونی حق استعمال کرے گا۔ بہرحال اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی جانب سے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے یہ درخواست کرنا کہ وہ اپنے ملک کی سکیورٹی فورسز کو مطلوب دہشت گردوں کی گرفتاری اور انہیں ایران کے حوالے کرنے پر مامور کریں، ایک واضح اور روشن بات ہے۔ اس درخواست کے دو واضح پیغام ہیں پہلا یہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشت گردی کی ماہیت اور اس کے حقیقی سرچشمے کو بخوبی جانتا ہے اور یہ درخواست ان اقدامات کی بنیاد پر ہے کہ جو ماضی میں پاکستان کی سرزمین سے ایران کے خلاف کیے گئے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ایران اپنی مشرقی سرحدوں پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور اسے جڑ سے اکھار پھینکنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔ اسی بنا پر صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعاون اور معلومات کے تبادلے کے لیے ایران کے سکیورٹی اداروں کی آمادگي پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے ٹھوس اقدام اور تعاون سے علاقے میں دہشت گردی یقینا جڑ سے ختم ہو جائے گي۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی اس ٹیلی فونک گفتگو میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔ پاکستان کے صدر کا یہ عزم اس بات تقاضا بھی کرتا ہے کہ پاکستان عمل کے میدان میں بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور دہشت گردی کی لعنت کو اپنے ملک سے ختم کر دے کہ جس سے پاکستان کے عوام بھی بری متاثر ہو رہے ہیں۔

........

/110