22 دسمبر 2010 - 20:30

جامشورو پولیس تھانے کی حدود میں واقع معروف شیعہ عالم دین سینئر رکن شورائے عالی مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ حیدر علی جوادی کے مدرسے پر پیر کی شب دہشت گردوں نے حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں ایک محافظ شدید زخمی ہو گیا۔

ابنا: موصولہ اطلاعات کے مطابق  دہشت گردوں نے جامشورو میں قائم ''مرکز تبلیغات اسلامی''مدرسے پر حملہ کر دیا اور ایک شیعہ محافظ کو زخمی کر دیاہے۔

واضح رہے کہ مدرسہ معروف شیعہ عالم دین علامہ حیدر علی جوادی کی زیر سرپرستی گذشتہ کئی دہائیوں سے دینی علوم کی ترویج میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے،جبکہ علامہ حیدر علی جوادی سابق تحریک جعفریہ پاکستان صوبہ سندھ کے صدر رہے ہیں اور اس وقت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شورائے عالی کے اہم ترین رکن بھی ہیں۔
دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے مولانا حیدر علی جوادی کے مدرسہ پر دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مدرسے پر حملہ کرنے والے ناصبی دہشت گردوں کے خلاف فی الفور کاروائی کی جائے اور انھیں گرفتار کر کرے قرار واقعی سزا دی جائے ۔
جعفریہ الائنس پاکستان،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان،امامیہ آرگنائزیشن پاکستان،اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان سمیت دیگر شیعہ ملی تنظیموں نے بھی جامشورو میں مولا نا حیدر علی جوادی کے مدرسہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی اور مدرسے کی سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔

........

/110