10 دسمبر 2010 - 20:30

ہنگو کے پاس کلے میں واقع حسینی ہسپتال میں ہونے والے کار بم دھماکے میں 18 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے اور ہسپتال سمیت کئی مکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پہلی محرم کو کوہاٹ کے تیراہ بازار میں ایک مسافر منی بس میں بم دھماکے کے صرف تین دن بعد ہنگو کے علاقے پاس کلے میں واقع اہل تشیع کے ایک نجی ہسپتال میں بالفطرہ مجرمین کے کار بم دھماکے سے 18 افراد شہید اور 20 کی قریب زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ہسپتال سمیت کئی ملحقہ رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اطلاعات کے مطابق دھماکہ ایک گاڑی میں ہوا اور یہ دھماکہ پاس کلے میں واقع زیر تعمیر الحسینی اسپتال کے احاطے میں ہوا جس سے ڈیڑھ سے دو کلومیٹر کا علاقہ لرز اٹھا، اور آس پاس واقع کئی مکانات زمین بوس ہوگئے اور علاقے کی بجلی بھی منقطع کردی گئی ہے۔
دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔  شہید اور زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔
کمشنر کوہاٹ ڈویژن خالد خان نی دعوی کیا کہ دھماکہ خودکش تھا۔
انھوں نے کہا کہ محرم الحرام کے باعث کوہاٹ اور ہنگو کو حساس قرار دے کر وہاں سیکیورٹی پہلے ہی سخت کر دی گئی تھی لیکن 
نہ تو انھوں نے خود اس بات کی طرف اشارہ کیا اور نہ ہی محب وطن صحافیوں میں سے کسی نے پوچھا کہ "اگر کوہاٹ اور ہنگو کو حساس علاقہ قرار دیا گیا ہے اور سیکورٹی پہلے سے ہی سخت کردی گئی ہے تو کوہاٹپ اور ہنگو میں ہی یہ خونی واقعات کیونکر رونما ہوئے؟
دریں اثناء لاہور میں منعقدہ آئی ایس او کے تعزیتی اجلاس میں  میں کہا گیا ہے کہ ہنگو میں کار بم دھماکہ حکومت کی نا اہلی کا ثبوت بے.
امامیہ اسٹودنٹس آرگنائزیشن نے ہنگو میں کار بم دھماکے کو حکومت کی نا اہلی کا  ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "محرم الحرام کے مقدس مہینے میں دہشت گردی کی کاروائیاں اسلام ومسلمین کے خلاف استعماری سازش ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے"۔ 
ان خیالات کا اظہار مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری آئی ایس او، عامر عباس طوری پاکستان نے ہنگامی و تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
عامر عباس طو ری نے مزید کہا کہ بم دھماکے اور دہشت گردی کی یہ کاروائیاں عزاداری اما م حسین(ع) کو محدود کرنے کی سازشوں کا حصہ ہیں جن کو ملت متحد ہو کر ناکا م کر دے گی۔
انھوں نے کہا کہ بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو بہت جلد اللہ کی گرفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے تمام مکاتب فکر کے جید علماء اور عمائدین سے اپیل کی کہ  دہشت گرد ٹو لے سے ملک و ملت کو بچانے کے لئے اتحاد و وحدت کا ثبوت دیں اور ملک بھر میں ہونے والی عزاداری کی مجالس و جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں او ر تخریب کاروں کے ارادوں کو  خا ک میں ملا دیں۔
علاوہ ازیں مرکزی نائب صدر امامیہ اسٹو ڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان برادر حسن نقوی نے بھی ہنگو میں معصوم اور بے گناہ لوگوں پر ڈھا ئے جانے  والے ظلم پر حکمرانوں کی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ محرم میں دہشتگردی کرنے والے درحقیقت امریکہ اور استعماری طاقتوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں لیکن یہ تمام
گھناؤنی حرکتیں عزاداری امام حسین علیہ السلام سے دور نہیں کر سکتی۔

۔۔۔۔۔۔

/110