1 دسمبر 2010 - 20:30

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کو کالعم دھشت گرد تنطیم تحریک طالبان کی جانب سے دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے،جس میں ان سے وزارت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ابنا: اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں حامد سعید کاظمی نے بتایا کہ خط وفاقی وزارت مذہبی امور کو موصول ہوا۔جس میں نازیبا زبان استعمال کی گئی ہے اور مستعفی نہ ہونے کی صورت میں انھیں خودکش حملے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری مذہبی امور نے دھمکی آمیز خط ان تک پہنچا دیا،اس حوالے سے وزارت داخلہ سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے۔ خط کو منظر عام پر لانے یا نہ لانے کے حوالے سے وہ وزارت داخلہ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے وزیر مذہبی امور پر ایک بار حملہ ہوچکا ہے جس میں وہ بال بال بچے ہیں۔...........اپنی بات:ہم یہ فیصلہ تو نہیں دینا چاہتے کہ یہ سب سعودیوں کی ریشہ دوانیوں کا نتیجہ ہے لیکن اپنے قارئین و صارفین کو یہ ضرور یاد دلانا چاہتے ہیں کہ وفاقی وزیر مذہبی امور نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پاکستانی حجاج کے ساتھ سعودی حکمرانوں اور سرکاری اہلکاروں کی بدسلوکی پر احتجاج کیا تھا اور سعودی کردار پر تنقید کی تھی جس کے بعد وفاقی حکومت نے ان سے وزارت کا قلمدان واپس لینے کا اعلان کیا اور اب تو صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ گویا حکومت انہیں اور ان کی جماعت کو ناراض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے چنانچہ دہشت گردوں کا دامن تھاما گیا ہے کہ وہ دہمکی دیں تو وفاقی وزیر خائف ہوکر استعفا دے دیں اور یوں پاکستان سے ناراض سعودی حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کی جائے؛ ویسے بھی وکی لیکس کے انکشافات کو اگر درست مان لیا جائے تو ان کے مطابق بھی سعودی حکمرانوں کے پاکستانی حکمرانوں کے بارے میں خیالات مثبت نہیں ہے اور ایک دستاویز کے مطابق تو سعودی عرب کو ہم نے پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کے تعین تک میں امریکیوں کے معاون کے عنوان سے بھی دیکھا ہے چنانچہ کسی وزیر کی جانب سے سعودی عرب پر تنقید نہایت بڑا جرم ہے جس کا ازالہ بہرصورت ہونا ضروری ہے!!!

۔۔۔۔۔۔۔

/110