1 دسمبر 2010 - 20:30

علامہ محمد امین شہیدیمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ مکتب جعفریہ کا اصولی موقف ہے کہ نبی کریم (ص) کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والوں کی سزا موت ہے، اگر رسول پاک (ص) نے کسی ایسے شخص کو معاف کیا ہو تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مسلمان بھی اسے معاف کر دیں۔

ابنا: اسلامی فقہ کے ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ (ص) کی عصمت اور مقام و مرتبت کے منافی کوئی بھی ایسی بات کرنا جس سے آپ (ص) کی توہین کا پہلو نکلتا ہو، ناقابل معافی جرم ہے، البتہ یہ ایک الگ بحث ہے کہ ایسے ادارے موجود ہوں جو قوانین شریعت کے مطابق یہ ثابت کر سکیں کہ کسی فرد سے ایسا جرم سرزد ہوا ہے۔ایک تحریری بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں توہین رسالت (ص) ایکٹ کے نفاذ کا خاص پس منظر ہے۔ملک عزیز میں توہین رسالت اور توہین صحابہ و اہلبیت پر مبنی قوانین کا اس سے قبل بھی غلط استعمال ہوتا رہا ہے اور بعض تکفیری اور متعصب حضرات اپنے مخالفین کو پھنسانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہیں اور اس نازک موضوع غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے اسی لیے حکومت اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کے تمام دروازے بند کردیں۔ اور اگر کسی نے اپنی فرقہ وارانہ دشمنی یا ذاتی عناد کے لیے کسی بے گناہ پر ایسا الزام لگایا تو اسے بھی کڑی سزا دی جائے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ بات بھی ضرور مدنظر رہنی چاہئے کہ اللہ کے رسول (ص) اور آپ (ص) کی آل کے مقام و منزلت کو نقصان پہنچانے اور مسلمانوں کے پاکیزہ جذبات کومجروح کرنے والوں کو ایسا موقع نہیں ملنا چاہیے جس کے نتیجے میں سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین یا ڈنمارک کے کارٹونسٹ کو اسلام کا مذاق اڑانے کا موقع مل جائے۔

............

/110