ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے حال ہی میں مازندران میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام خود کو شہدا اور دفاع میں حصہ لینے والے جان نثاروں کے خاندانوں کے مرہون منت سمجھتے ہیں۔
انھوں نے دہشت گردی کی کاروائی میں ایک جوہری سائنسدان کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کی جانب بڑھنے والے ایرانی عوام کے قدم اس طرح کے دہشت گردانہ عمل سے نہیں رک سکتے۔
صدر احمدی نژاد نے مغربی ممالک سے مخاطب کرتے ہوئے کہا: جان لو کہ تم نے غلطی کی ہے کیونکہ ایرانی عوام اپنا راستہ تلاش کر چکی ہے اور ایرانی سائنس دانوں کا قاتل تمہارے کیس کو اور خراب کر رہا ہے اور ایرانی عوام اپنا ارمان حاصل کرنے کے لئے دو لاکھ شہیدوں کی قربانی دے چکے ہیں اور اگر تم اس فکر میں ہو کہ دنیا میں پھیلے جاسوسی جال کی مدد سے ایرانی سائنسدانوں کو رات کے اندھیرے میں شہید کر کے اسلامی ایران کی ترقی کو روک دوگے تو یہ تمہاری خام خیالی ہے۔
احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ دشمنان اسلام و انقلاب اسلامی ہمیشہ سے اس طرح کے جرائم و مظالم کا ارتکاب کرتے رہے ہیں اور آج مختلف قرار دادوں کے ذریعے اس اسلامی ملک کی ترقی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا: حالیہ قراردادوں میں شہید ہونے والے ایرانی سائنسدان کا نام درج کیا گیا تھا اور میرے خیال میں یہ قرارداد انسانی قتل اور دہشت گردی کو ترویج دینے کی گندی صہیونی سازشوں کا حصہ ہے۔
ایران کے صدر نے کہا: دشمن ہمیشہ سے ہمارے ملک میں فتنہ انگیزی کی سازش میں مصروف رہا ہے اور بلا شک کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے دہشت گردانہ اقدامات میں صہیونی ریاست اور نام نہاد سلامتی کونسل کے اراکین کے ناپاک ہاتھ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں۔
تصحیح از ابنا
..........
/110