ابنا: امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے اس بارے میں معلومات واشنگٹن بھیجے گئے مراسلے میں بتائی تھیں جو وکی لیکس نے جاری کر دی ہیں۔اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے اس وقت کی امریکی سفیر اور آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات کی تفصیلی رپورٹ اٹھائیس جنوری دو ہزار آٹھ کو واشنگٹن بھیجی تھی۔ دونوں شخصیات کے درمیان یہ ملاقات پچیس جنوری کو بلاول ہاؤس کراچی میں ہوئی تھی۔وکی لیکس کے مطابق زرداری نے بات چیت یہ کہہ کر شروع کی کہ امریکا ہمارے لیے محفوظ چادر کی حیثیت رکھتا ہے۔ زرداری نے پیٹرسن کو بے نظیر کی ایک صفحے پر لکھی وصیت دکھائی اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ بے نظیر نے انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کرنے کی ذمے داری سونپی ہے اور اس کے لیے انہوں نے امریکا کی آشیر باد بھی مانگی۔ انہوں نے امریکی سفیر کو بتایا کہ انہوں نے اس وقت کی پاکستانی حکومت کے خلاف بے نطیر کے قتل کی ایف آئی آر اس لیے نہیں کٹوائی تھی کیونکہ وہ پاکستان کو ایک اور بھونچال میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔امریکی سفیر نے مراسلے میں یہ بھی لکھا تھا کہ آصف زرداری بے نظیر پر گولی چلانے والے کی شناخت سے زیاد یہ پتہ چلانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے کہ قتل کرایا کس نے اور اس کے لیے پیسہ کس نے دیا۔آصف زرداری نے امریکی سفیر کا یہ خیال مسترد کر دیا کہ بے نظیر کا قتل بیت اللہ محسود نے کرایا تھا بلکہ انہوں نے یہ کہا کہ بیت اللہ محسود اس عمل کا ایک مہرا تھا۔............
سوال...اگر آصف زرداری پس پردہ بےنظیر قتل کیس میں بیت اللہ محسود کو ایک مہرہ سمجھتے ہیں تو پھر اس کلیئرنس کو بھی مد نظر رکھیں جو امریکہ نے پاکستان جانے کے لئے مرحومہ کو دی تھی؛ سوال یہ ہے کہ بیت اللہ محسود امریکہ کا مہرہ نہیں تھا؟ کیا یہ قتل اسی نے نہیں کرایا جس نے کلیئرنس دی اور بےنظیر کو آسان شکار بنا کر پاکستان بھجوایا؟ کیا بےنظیر کے پاکستان آتے ہی کراچی میں عظیم قتل عام اور خودکش دھماکے زرداری کو یاد نہیں رہی؟
..........
امریکی رضا مندی سے ہی اقتدار میں آنا ممکن ہوا، صدر زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے اقتدار میں آنے پر واشنگٹن کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا تھاکہ وہ امریکی حکومت کی وجہ سے اقتدار میں آئے ہیں اور پاکستان کا چہر بدلنے کیلئے امریکی مشورے کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے ۔یہ انکشاف اس وقت کی امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے امریکا بھیجے گئے مراسلے میں کیا تھا ۔وکی لیکس نے یہ مراسلہ بھی انٹر نیٹ پر جاری کر دیا ہے ۔اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی نمائندے شف اور شوارز نے چھبیس مئی دو ہزار آٹھ کو پیپلز پارٹی کے رہ نما آصف زرداری اور ان کی خارجہ پالیسی ٹیم سے ملاقات کی تھی ۔بات چیت میں آصف زرداری نے قابل بھروسہ پارلیمانی انتخابات کی حمایت پر امریکی حکومت کا شکریہ ادار کیاجس کی وجہ سے ان کی پارٹی اقتدار میں آئی ۔زرداری نے امریکی نمائندوں سے کہا کہ وہ امریکی حکومت کی وجہ سے اقتدار میں آئے ۔زرداری نے امریکی کانگریس کے ارکان سے بے نظیر بھٹو کے قریبی تعلقات کا ذکر کیا اور امریکی نمائندوں پرزور دیا کہ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے امریکی عہدیدار پاکستان کے زیادہ سے زیادہ دورے کریں ۔زرداری نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو پاکستان کی جنگ قرار دیا۔آصف زرداری نے امریکی نمائندوں سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ بے نظیر کی دوسری حکومت ہٹانے کے لیے پیسہ اسامہ بن لادن نے دیا تھااور بے نظیر اور ذو الفقار علی بھٹو کو مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کرایا تھا ۔ زرداری نے خدشہ ظاہر کیا کہ پرویز مشرف کے مشیر اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے انہیں گمراہ کر رہے ہیں ۔زرداری نے کہا کہ پاکستان کا چہرہ بدلنے کے لیے پیپلز پارٹی کو کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے وہ امریکا کے مشورے کے بغیر کوئی قدم نہیں اتھائیں گے۔