ابنا: جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن جامع منصورہ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔
سید منور حسن نے کہا کہ آسیہ مسیح کے خلاف عدالت نے فیصلہ دیا ہے، اس کو عدالت کے ذریعے تبدیل کرائیں، سیاسی جنگ نہ بنائیں۔
انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی گئی تو عدالتوں کے بجائے لوگ خود فیصلے کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ آر جی ایس ٹی ظالمانہ ہے مسلم لیگ ن پنجاب میں اس کے نفاذ کا راستہ روکے۔
انھوں نے کہا کہ اب گھروں میں بیٹھے رہنے کا وقت گزر گیا عوام کے سڑکوں پر آنے کا وقت آگیا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ 5دسمبر کا دھرنا حالات کی تبدیلی کے لیے ہے۔ حکمران پانچ سال پورے کرنا چاہتے ہیں تومہنگائی و بے روزگاری اور لاقانونیت کا خاتمہ کریں اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں۔
بشکریہ از جنگ نیوز
---------
منور حسن صاحب کی بات بہت درست ہے لیکن انھوں نے اپنی احتجاج کی توجیہ میں یہ نہیں کہا ہے ـ یا پھر کہا ہے لیکن رونامہ جنگ نے ان باتوں کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے ـ کہ ملک میں افراتفری اور خانہ جنگی کا سا ماحول ہے؛ لوگ گھر سے نکلتے ہیں تو واپسی کی امید لے کر نہیں نکلتے اور انہیں یہ ہرگز معلوم نہیں ہوتا کہ کیا وہ شام کو اپنے بچوں سے دیدار تازہ کرسکیں گے یا نہیں؟ کیا پاکستانی عوام انسان نہیں ہیں؟
عجیب بات ہے کہ سلمان تأثیر نے بہت ہی جذباتی انداز سے آسیہ مسیح کا کیس نہایت سنجیدگی سے لیا ہے اور اچانک ان کی انسان دوستی کا پھول کھِل گیا ہے اور صدر زرداری کا بھی! لیکن اسی ملک میں نہایت محب وطن انسانوں کو گذشتہ چار برسوں میں شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں قلعہ بند کردیا ہے اور ہر روز وہاں کئی لوگ دوائی نہ ہونے کی وجہ سے مرتے ہیں؛ چارسالہ ناکہ بندی کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت نے لوگوں کے گھر دیکھ لئے ہیں لیکن ان کی وطن دوستی کا جذبہ بیدار نہیں ہورہا اور ان کے جھوٹے وزیر داخلہ نے تو کئی بار راستے کھولنے کے وعدے بھی دیئے ہیں لیکن ابھی تک عملی میدان میں کچھ نہیں ہوا ہے۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین کرنے والی خاتون اتنی عزیز کیوں ہوئی؟ کیا واقعی ہمارے حکام انسان دوستی کے جذبے کے تحت ایسا کررہے ہیں یا مغرب دوستی کی وجہ سے؟ اگر یہ لوگ انسان دوست ہیں تو کیا پاراچنار کے 500000 لاکھ قلعہ بند عوام انسان نہیں ہیں؟
.........
/110