گورنر پنجاب نے یہ بات ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں آسیہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
سلمان تاثیر نے کہا کہ اس معاملے کا مذہب سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ اس کا تعلق انسانیت سے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بے بس لوگوں کو ایسے مقدمات میں ملوث کر کے قانون کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے اور نہ ہی پارلیمنٹ کی کارروائیوں میں مداخلت کریں گے۔
اس موقع پر ملزمہ آسیہ کا کہنا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخری رسول ہیں اور وہ توہین رسالت کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
دریں اثناء ذرائع نے بتایا ہے کہ آسیہ بی بی کو رہائی کے بعد خاندان سمیت بیرون ملک بھجوا دیا جائیگا۔
گورنر پنجاب نے گزشتہ روز صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ کا دورہ کیا اور سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی سے ملاقات کر کے رحم کی اپیل حاصل کی تاکہ اسے فوری طور پر صدر مملکت کو بھجوایا جا سکے اور کرسمس سے قبل آسیہ کو رہائی مل جائے۔
ذرائع کے مطابق آسیہ کو رہائی کے بعد خاندان سمیت بیرون ملک بھجوا دیا جائے گا۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ میں نے اس کیس کا مکمل جائزہ لیا ہے اور ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا جس کے تحت مسیحی خاتون کو موت کی سزا سنائی گئی۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ صوبے کا آئینی سربراہ ہونے کے ناطے مجھے یہ اپیل ملی ہے جو میں خود صدر مملکت کے پاس لے کر جاؤں گا۔
انہوں نے کہا مجھے امید ہے کہ صدرِ پاکستان آسیہ بی بی کی سزا معاف کر دیں گے۔
اس موقع پر آسیہ بی بی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف پانی کا جھگڑا تھا مجھ پر غلط الزام لگایا گیا۔
........
/110