17 نومبر 2010 - 20:30

کرم ایجنسی پاراچنار کے علاقے شلوزن گاؤں میں افغانستان کی سرحد سے طالبان دہشت گردوں نے کئی میزائل فائر کئے ہیں جس کے سبب ایک شیعہ خاتون شہید جبکہ آٹھ افراد جن میں دو بچے بھی شامل ہیں زخمی ہو گئے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاک افغان سرحد سے تین کلومیٹر دور پاراچنار کرم ایجنسی کے علاقے شلوزان گذشتہ روز افغانستان کی سرحد سے طالبان دہشت گردوں کے راکٹوں کا نشانہ بنا جس کے نتیجے میں ایک شیعہ خاتون اور دوبچے شہید جبکہ چھ دیگر افراد شدید زخمی  ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پاک افغان سرحد پر شلوزان گاؤں پر طالبان دہشت گردوں نے متعدد راکٹ میزائل فائر کئے جن میں سے بیشتر درختوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے تاہم دو سے تین میزائل آبادی میں گرے۔
اطلاعات کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر پاراچنار میں واقع ایجنسی ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کیا گیا تا ہم چارسالہ طویل محاصرے اور حال ہی میں ایف سی کمانڈنٹ کرنل توصیف کے حکم پر افغان سرحد کی مکمل بندش کی بنا پر اسپتالوں میں ابتدائی طبی امداد کی خاطر خواہ سہولت موجود نہ ہونے کی وجہ سے زخمیوں کو اسپتال میں علاج معالجے کی سہولت مہیا نہ کی جاسکی جس کے باعث مزید شہادتوں کا امکان ہے۔
کل رات کو شیعہ خبر ایجنسیوں کو موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق اس سفاکانہ حملے میں ایک خاتون شہید اور آٹھ افراد زخمی بتائے گئے تھے جنہیں اسپتال میں علاج معالجے کی سہولت فراہم نہ کی جاسکی تھی اور انہیں ان کے گھروں میں لوٹایا گیا تھا اور آج کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ تین افراد شہید ہوگئے ہیں جن میں ایک خاتون اور دو بچے شامل ہیں؛ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دو بچے دوا دارو نہ ہونے کے باعث شہید ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ چار سال سے طالبان دہشت گردوں کی جانب سے پاراچنار کرم ایجنسی کی شاہراہوں پر قبضہ ہونے کی وجہ سے پاراچنار کے سات لاکھ سے زائد عوام محصور ہیں اور ضروریات زندگی کی بنیادی سہولیات، خوراک اور ادویات سے محروم ہیں۔
دوسری جانب طالبان دہشت گردوں کے میزائل حملوں میں زخمی ہونے والوں کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے جن کو فوری طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

بشکریہ از شیعیت نیوز

۔۔۔۔۔۔۔

/110