13 نومبر 2010 - 20:30

عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیلاب کے بعد تعمیر نو کیلئے پاکستان میں چھ ارب ستر کروڑ ڈالر کی ضرورت ہوگی / بابراعوان نے کہا ہے کہ پنجاب میں رقم کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث وزیراعلیٰ شہبازشریف کو یہ کہنا پڑا کہ سیلاب زدگان کیلئے رقم نہیں۔

عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیلاب کے بعد تعمیر نو کیلئے پاکستان میں چھ ارب ستر کروڑ ڈالر کی ضرورت ہوگی۔عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے اسلام آباد میں ہونیوالے پاکستان ڈیولپمنٹ فورم کے اجلاس میں سیلاب کے حوالے سے ڈیزاسٹر اسسمنٹ نیڈزپر اپنی رپورٹ میڈیا کو جاری کردی۔رپورٹ کے مطابق سیلاب کے بعد تعمیر نو کیلئے پاکستان میں6.7 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ مکانات کی تعمیرنو کیلئے1.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ مواصلات ، ٹرانسپورٹ کیلئے2.3 ارب ڈالر، آبپاشی کیلئے42کروڑ اور زراعت کیلئے25 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہوگی ۔ تعلیم کیلئے50کروڑڈالر ، چھوٹے روزگار کی بحالی کیلئے68کروڑ ڈالر درکارہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق صحت کیلئے4 کروڑڈالر، پینے کا صاف اور نکاسی آب کیلئے7کروڑ ڈالر اور ماحولیات کیلئے20 کروڑ درکارہوں گے۔
پنجاب میں غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے سیلاب زدگان کیلئے رقم نہیں، بابراعوان 
وزیرقانون بابراعوان نے کہا ہے کہ پنجاب میں رقم کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث وزیراعلیٰ شہبازشریف کو یہ کہنا پڑا کہ سیلاب زدگان کیلئے رقم نہیں ۔ راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت پر بات چیت کرتے ہوئے وزیر قانون بابراعوان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب ایک شہر کے بجائے پورے پنجاب پر رقم خرچ کرتے توانہیں یہ نہ کہنا پڑتا کہ سیلاب زدگان کے لئے کوئی رقم نہیں ہے۔ بابراعوان نے کہا کہ ملک کی آبادی ساڑھے18 کروڑ ہے اورصرف18 لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے پلازے اور محلات رکھنے والوں کو بھی ٹیکس دینا ہوگا، بابراعوان نے کہا کہ سیلاب زدگان کی آباد کاری پرسودے بازی نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ فلڈ ٹیکس حکومت کے لئے نہیں بلکہ صرف سیلاب زدگان کے لئے ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110