9 نومبر 2010 - 20:30

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا ہےکہ اسلامی نظام میں قوت و طاقت کا معیار خدا پر ایمان اور بھروسہ اور اعلی اہداف کی راہ میں مخلصانہ کوششیں کرنا ہے/ الہی ہدف اور عوام کے ساتھ قلبی لگاؤ ایرانی فوج کی دو عمدہ خصوصیات ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی نے آج ملٹری یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے افسران کی پاسنگ آوٹ پریڈ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے اپنے ایمان کے سبب فوجی سازوسامان تیارکرنے میں قابل توجہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مادی طاقتیں کہ جن کی طاقت کا معیار صرف فوجی ساز وسامان اور مادی امتیازات ہیں، اسلام کو اپنی قوت کی بنیاد سمجھنے والی قوم کو شکست دینے کی صلاحیت نہيں رکھتیں۔

آپ نےفرمایا مادی طاقتوں پر روحانی طاقت کے غلبے کی واضح مثال اسلامی انقلاب کی کامیابی ہے جس میں ملت ایران نے خالی ہاتھوں - ایمان کے سہارے - شاہ کی طاغوتی حکومت پر غلبہ پایا۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ ملت ایران نے دفاع مقدس کے دوران پابندیوں کے باوجود اپنے ایمان اور نوجوانوں کی بہادری اور اپنی توانائيوں پر بھروسہ کرتے ہوئے عراق کی فاسد اور بدعنوان بعثی حکومت پر غلبہ پایا جبکہ مغربی اور مشرقی ممالک اسی کی حمایت کر رہے تھے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے خود اعتمادی اور صلاحیتوں کی بالیدگی اور نشوونما کو اسلامی قوت و طاقت کی خصوصیات قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی ملک میں سامراج سے مستغنی ہوکر زندگی گذاری جاسکتی ہے۔

تفصیل:

الہی ہدف اور عوام کے ساتھ قلبی لگاؤ ایرانی فوج کی دو عمدہ خصوصیات ہیں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگی میں فوجی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے جوانوں کی چوتھی مشترکہ حلف برداری کی تقریت شہید ستاری فضائی یونیورسٹی میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے آغاز میں مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نےشہیدوں کی یادگار پر حاضر ی دی  اور انقلاب اسلامی کے گرانقدر شہیدوں کے لئے سورہ فاتحہ کی تلاوت اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔اس کے بعد گراؤنڈ میں موجود دستوں نےرہبر معظم انقلاب اسلامی کو سلامی پیش کی۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس تقریب میں اپنے خطاب میں اسلامی نظام میں اقتدار کے نمونہ کو ایمان، اعتماد، اعلی اصولوں کی راہ میں مخلصانہ تلاش و کوشش کی بنیاد پر استوار قراردیتے ہوئے  فرمایا: مسلح افواج منجملہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے ایمان کی بنیاد پر فوجی وسائل کی پیداوار میں قابل توجہ پیشرفت حاصل کی ہے اور اس سلسلے میں فضائیہ کو نمایاں ترقی اور پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے الہی ہدف اور عوام کے ساتھ قلبی اور انسانی پیوند کو اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی دو ممتاز اور اہم خصوصیات قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی نظام میں اقتدار کے لئے نظم و انضباط، فوجی وسائل اور تعلیم کا بہت بڑا اور اہم مقام ہے لیکن ان تمام وسائل کی اصل روح شرعی تکلیف ، ذمہ داری کا احساس اور اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ اور توکل ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مادی طاقتوں کے اقتدار کو صرف فوجی اور مادی وسائل پر استوار قراردیتے ہوئے فرمایا: مادی طاقتیں اسلامی اقتدار پر استوارقوم کو شکست دینے پر قادر نہیں ہیں  اور مادی قدرت پر معنوی طاقت کی کامیابی و فتح کا عینی نمونہ یہ ہے کہ  انقلاب اسلامی کو مادی طاقت پر فتح نصیب  ہوئی ، ایمان اور اللہ تعالی پر توکل کی بدولت ایران کی خالی ہاتھ قوم کو شاہ کی طاغوتی حکومت پر شاندار کامیابی حاصل ہوئی ۔  رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران پر مسلط کردہ جنگ میں ایرانی قوم کی کامیابی کو مادی طاقت پر معنوی طاقت کی کامیابی کی ایک اور مثال قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم نےدفاع مقدس کے دوران تمام اقتصادی پابندیوں کے باوجود، اپنے جوانوں اور اپنے مسلح فوجیوں کی شجاعت اور ایمان  کی بدولت صدام کی بعثی اورفاسد حکومت پر کامیابی حاصل کی جس کو مغربی اور مشرقی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے مسلح افواج کی تقویت اور ان کی صلاحیتوں کو بہتر و  جدید بنانے کو اسلامی اقتدار کی ایک اور خصوصیت قرار دیتے ہوئے فرمایا:  اسلامی اقتدار میں سامراجی اور مستکبر  طاقتوں سے بے نیاز ہوا جاسکتا ہے اور ایسی مسلح فوج کو تیار کیا جاسکتا ہے جو مکمل طور پرایرانی فکر و شعور اور ذہانت کی حامل ہو۔رہبر معظم انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے مسلح افواج کی پیشرفت اوران کی طرف سے پیچیدہ فوجی وسائل کی ساخت کو ایرانی فکر و شعور کا بہترین نتیجہ اور مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: خود کفیل ہونے کا ادارہ سب سے پہلےفضائیہ میں تاسیس ہوا اور شہید ستاری، شہید بابائی، شہید خضرائی اور " دوران " جیسے عظیم القدر شہداء اس سلسلے میں پیشقدم تھے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےفوجی یونیورسٹیوں کے طلباء اور جوانوں کو اسلامی اقتدار کے دائرے میں رہ کر ان گرانقدر شہیدوں کے راستے پر حرکت جاری رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: اپنی تعلیم ، تحقیق اور ریسرچ کو اپنی توانائیوں اور اچھےو باصلاحیت افراد  کےتجربات  سے استفادہ کی نہج پر جاری رکھیں اور پیشرفت و ترقی کی کسی حد پر قناعت نہ کریں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کمال و سعادت کی راہ کو لامتناہی اور بے پایاں قراردیتے ہوئے فرمایا: مسلح افواج کی یونیورسٹیاں ملک کے علمی اداروں کی سب سے بڑی امید ہیں اور انھیں اپنے تابناک و درخشاں مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی پیشرفت اور ترقی کے منصوبوں کو تیار کرنا چاہیے اور سرعت کے ساتھ پیشرفت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔حلف و تعلیم کی اس تقریب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی یونیورسٹیوں کے جوانوں ، شہداء کے بعض اہل خانہ ، فوجی کمانڈروں اور ممتاز جوانوں کو اعزازی ڈگری پیش کی گئی  اور فوجی جوانوں کے نمائندوں کورہبر معظم انقلاب اسلامی نے ترقی کے نشانات عطا کئے۔اس ملاقات کے آغاز میں ایرانی فضائیہ کے سربراہ  میجرجنرل شاہ صفی نے اپنے خطاب میں تاکید کرتے ہوئے کہا: فوجی یوینورسٹیوں کے جوان جدید علم و دانش، ایمان اور نظم و انضباط کی بنیاد پرسافٹ ویئر جنگ و جہاد کے میدان ذوق و شوق کے ساتھ موجود ہیں اور بر وقت کارروائی کرنے کے لئے ہمیشہ سے آمادہ و تیار ہیں۔شہید ستاری فضائیہ یونیورسٹی کے سربراہ جنرل شیخ حسنی  نے بھی فوجی  یونیورسٹیوں میں تعلیمی کیفیت ، فوجی جوانوں کی سلیکشن میں بنیادی تبدیلی اور جذاب طریقوں اور درس و تدریس کی اہم فصلوں کے بارے میں اپنی رپورٹ  پیش کرتے ہوئے کہا: فوجی یونیورسٹیوں کا نصب العین خود کفیل ہونے کے لئے تحقیق اور ریسرچ کی بنیاد پر استوار ہے۔اس تقریب میں فوجی یوینورسٹیوں کےجوانوں نے شاندار فوجی پریڈ کا بھی مظاہرہ کیا۔اس تقریب کے اختتام میں گراؤنڈ میں حاضر فوجی دستوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کو سلامی پیش کرتے ہوئے مارچ کیا۔

...........

/110

تصویری رپورٹس:

- تصویری رپورٹ - 1

- تصویری رپورٹ - 2

- تصویری رپورٹ - 3

- تصویری رپورٹ - 4