یہ بات درہ آدم خیل اور خیبر ایجنسی کے لئے طالبان کمانڈر طارق آفریدی نے ایک انٹرویو میں کہی ۔ طارق آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کے آدمیوں نے کچھ عرصہ پہلے کوہاٹ یونی ورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر لطف اللہ کاکا خیل کو اغوا کیا تھا ۔ ان کی رہائی کے عوض اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی اور بھاری تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ حکومت نے ان کے 50 ساتھیوں کو رہا کردیا اور تاوان کی رقم ادا کی جس کے بعد لطف اللہ کاکا خیل کو رہا کردیا گیا تھا ۔ طالبان کمانڈر کا کہنا ہے کہ اسلامیہ کالج یونی ورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کے اغوا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ تاہم انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ اجمل خان کو وزیرستان کے طالبان نے اغوا کیا ہے ۔
روزنامہ جنگ..........
سوال:کس معاشرے میں حکومت کے وجود کا فلسفہ ہی کیا ہے؟ کیا حکومت کے متوازی حکومتیں بنانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملک انارکی کا شکار ہوگیا ہے؟ طارق آفریدی ایک حکمران کی طرح بات کرتا ہے؛ اعتراف کرتا ہے کہ کوہاٹ یونیورسٹی کا وائس چانسلر اس کے آدمیوں نے اغوا کیا تھا اور یہ کہ حکومت نے اس کے پچاس آدمی بھی رہا کردیئے اور اس کو تاوان کی رقم بھی ادا کی تب اس نے وائس چانسلر کو رہا کردیا!!! اور پھر ایڈریس بھی دیتا ہے کہ ڈاکٹر اجمل کو وزیرستانی طالبان نے اغوا کیا ہے یعنی یہ کہ اگر سودا کرنا ہے تو اس بار وزیرستانی طالبان کے دہشت گرد اور انسانیت کش سرغنوں سے بات کی جائے؛ ان کے قیدی ساتھیوں کو رہا کردیا جائے اور انہیں تاوان کی رقم ادا کی جائے۔ جو حکومت جرائم پیشه غنڈوں کے سامنے معذرتخواہانہ پالیسی اختیار کرکے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک کر انہیں تاوان ادا کرتی ہو کیا وہ حکومت کہلانے کی حقدار ہوسکتی ہے؟..........
/110
- ڈاکٹر اجمل کی عدم بازیابی: خیبر پختونخوا کی جامعات بند، طلباء کا احتجاج