7 نومبر 2010 - 20:30

اسلامیہ کالج یونی ورسٹی پشاور کے مغوی وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل خان کا دوسرا ویڈیو پیغام منظرعام پر آنے کے بعداساتذہ ایسوسی ایشن کی جانب سے تمام سرکاری جامعات بند کر گئی ہیں جبکہ طلبا نے وائس چانسلر کی بازیابی کیلئے احتجاجی جلوس نکالا۔

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف کی کال پر یونیورسٹی آف پشاور، زرعی یونی ورسٹی، اسلامیہ کالج یونیورسٹی اورانجینئرنگ یونیورسٹی سمیت خیبرپختونخوا کی تمام سرکاری جامعات آج بند رہیں۔ پشاور کیمپس کے احاطے میں واقع تمام کالجز، سکول اوردیگر تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ اساتذہ ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے مغوی وائس چانسلر پروفیسراجمل خان کی بازیابی تک تمام یونیورسٹیاں بند رہیں گی۔ خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات میاں افتخارحسین نے جیونیوز کو بتایا کہ وائس چانسلر اجمل خان کی بازیابی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اغوا کاروں کی جانب سے ابھی تک کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اغواکاروں نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ گورنرہاؤس ذرائع کے مطابق مغوی وائس چانسلر کی بازیابی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گورنر کو بھی اغوا کاروں کے مطالبات کا علم نہیں۔ لیکن انہیں امید ہے کہ مغوی وائس چانسلر جلد ہی بحفاظت اپنے گھر پہنچ جائیں گے۔ دوسری جانب یونی ورسٹی کے طلبا نے وائس چانسلر کی بازیابی کیلئے یونی ورسٹی سے پشاور پریس کلب تک احتجاجی جلوس نکالا۔ طلبا نے حکومت مخالف نعرے لگائے اور مغوی وائس چانسلراجمل خان کی جلد اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے ۔ 

--------

اس سے قبل خبر  تھی کہ کالعدم تحریک طالبان نے اغوا ہونے والے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل خان کی ویڈیو فوٹیج جاری کردی ہے، جس میں ڈاکٹر اجمل خان نے حکومت طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے اور اپنی رہائی کی اپیل کی ہے۔ فوٹیج میں ڈاکٹر اجمل کے پیچھے دو نقاب پوش بندوق بردار کھڑے ہیں۔ ڈاکٹر اجمل خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ دل کے مریض ہیں اور ان کا زیادہ دیر تک طالبان کے ساتھ رہنا ٹھیک نہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ انہیں تحریک طالبان نے اے این پی کے رہنما اسفندیارولی خان کا رشتہ دار اور سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے سات ستمبر کو اپنے دفتر جاتے ہوئے راستے میں اغوا کیا لیکن اتنا عرصہ گذرنے کے باوجود ان کو رہا نہیں کر رہے۔ انھوں نے طلباء، اسفندیار ولی خان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی اور گورنر اویس احمد غنی سے اپنی رہائی کےلئے کوشش کرنے کی اپیل کی۔۔۔۔۔وہ شاید بھول گئے ہیں یا پهر طالبان کی دباؤ کی وجہ سے خوش فہمی کو حقیقت پر ترجیح دینے لگے ہیں ورنہ حکومت خیبر پختونخوا کے بڑے بڑے اپنے اور اپنے خاندانوں کے تحفظ تک سے عاجز ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110