6 نومبر 2010 - 20:30

صہیونی وزیر جنگ نے اپنے اسلحہ خانوں میں موجود کئی سو ایٹمی وار ہیڈز کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔

صہیونی وزیر جنگ ایہود بارک کا کہنا ہے کہ ایرانی جوہر ی پروگرام دنیا کے لیے خطرناک ہے، اب بھی وقت ہے ایران پر سفارتی دباو ڈالیں یا پابندی عائد کریں۔دریں اثناء ایران کا کہنا ہے 6 بڑے ممالک کے ساتھ آیندہ مذاکرات میں جوہری پروگرام پر بات چیت نہیں ہوگی۔ کینیڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صہیونی وزیر جنگ ایہود بارک کا کہنا تھا کہ ایران فوجی جوہری صلاحیت حاصل کے لیے پرعزم ہے جو کہ پوری دنیا کے لیے خطر ناک بات ہے ایران کے جوہری پروگرام سے مشرقی وسطی کے دیگر ممالک بھی جوہری پروگرام حاصل کے لیے کوششیں تیز کرسکتے ہیں۔ عالمی برادری کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ ایران کے جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے پہلے اس پر سفارتی دباو ڈالیں یا پابندیاں عائد کریں ۔صہیونی وزیر جنگ نے گھسے پھٹے صہیونی یاوہ سرائیاں جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری پروگرام پر دنیا کو دھوکا دے رہا ہے تاہم اگر ایران جوہری پروگرام ترک کرے یا یورنییم کی افزودگی ختم کرے تو یہ ایک مثبت عمل ہوگا!!!۔ ادھر ایران کا کہنا ہے کہ دنیا کے چھ بڑے ممالک کے ساتھ آیندہ مذاکرات میں جوہری پروگرام پر بات چیت نہیں ہوگی۔بشکریہ از روزنامۂ جنگ۔۔۔۔۔صہیونی وزیر جنگ نے اپنے اسلحہ خانوں میں موجود کئی سو ایٹمی وار ہیڈز کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔واضح رہے کہ صہیونی ریاست غصب و جارحیت کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے اور اسی نے مشرق وسطی کو گذشتہ ساٹھ برسوں سے حالت جنگ میں رکھا ہوا ہے اور اسے اس حوالے سے تمام مغربی طاقتوں کی آشیرباد حاصل ہے۔ جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے اور اس ملک کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے دفاع کے لئے ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے اور دوسری طرف سے رہبر معظم انقلاب اسلامی امام سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سمیت اجتماعی قتل کے تمام ہتھیار بنانا اور استعمال کرنا، شرعاً حرام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔/110