5 نومبر 2010 - 20:30

امریکہ کے صدر باراک اوبامہ 4 ایشائی ممالک کے سفر کے پہلے مرحلے میں ہندوستان کے شہر بمبئی پہنچ گئے ہیں / اپنے ملک میں بھارتیوں کی بے عزتی.

امریکہ کے صدر باراک اوبامہ  4 ایشائی ممالک کے دس روزہ سفر کے پہلے مرحلے میں ہندوستان کے شہر  بمبئی پہنچ گئے ہیں۔ اوبامہ کا ہندوستان کا یہ پہلا دورہ ہے اور 2008 کے انتخابات کے بعد یہ ان کا طولانی ترین سفر ہے۔ امریکی صدر اوبامہ ہندوستان کے بعد انڈونیشیا، جنوبی کوریا اور جاپان کا دورہ بھی کریں گے۔ باراک اوبامہ کے دورے کے موقع پر ہندوستان میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ممبئی میں سخت حفاظتی انتظامات اپنے ملک میں بھارتیوں کی بے عزتی: امریکی قونصل نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اشوک چوان اور نائب وزیراعلیٰ چھگن بھجبل اور ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل تک سے ان کے شناختی کارڈز، پیدائش تاریخ اور پین کارڈ کی معلومات مانگی ہیں۔امریکہ کے صدر باراک اوبامہ کے دورے کے پیش نظر ممبئی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ سکیورٹی  دستوں نے ان تمام مقامات کی حفاظت کے انتظامات سنبھال لیے ہیں جہاں امریکی صدر جائیں گے۔ امریکی حفاظتی دستوں کے علاوہ ممبئی پولیس، فورس ون کمانڈوز اور دیگر ریاستوں سے آئی پولیس کے علاوہ بحریہ اور ہوائی دستے بھی الرٹ پر ہیں۔سکیورٹی اور چھان بین اتنی سخت ہے کہ امریکی قونصل نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اشوک چوان اور نائب وزیراعلیٰ چھگن بھجبل اور ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل تک سے ان کے شناختی کارڈز، پیدائش کی تاریخ اور پین کارڈ کی معلومات مانگی ہیں جبکہ یہ اقدام حقیقتاً امریکی استعمار کی جانب سے ہندوستانی عوام اور حکومت کی سرکاری طور پر بے عزتی کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اسی وجہ سے مہاراشٹر حکومت کے اعلیٰ سیاسی لیڈران اور افسران کے درمیان بدمزگی پیدا ہوگئی۔ امریکی صدر ہوٹل تاج میں قیام کریں گے اس لیےگیٹ وے کی طرف آنے والے تمام گیارہ راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ اطراف کی دکانیں بھی تین دنوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔ سمندر میں موجود تمام کشتیوں اور جہازوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ صدر کا حفاظتی دستہ جمعرات کو ہی ممبئی پہنچ گیا تھا۔ ان کے کمانڈوز اور کتے جگہ جگہ تلاشی لے رہے ہیں۔ امریکی صدر کی ہندوستان  آمد کے خلاف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور ان کے ساتھ چند دیگر پارٹیوں نے سنیچر کے روز چرچ گیٹ ریلوے سٹیشن پر شام پانچ بجے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدور جہاں بھی جاتے ہیں انھیں عوامی نفرتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بشکریہ از مهر نیوز اردو

...........

/110