28 اکتوبر 2010 - 20:30

واضح رہے کہ رپورٹ کے مطابق اس سانحے میں 25 حافظ، 5 عالم دین اور 20 دیگر افراد قتل ہوئے تھے۔ جن میں حافظ تقی، حنیف بلو اور سنی تحریک کے رہنما شامل تھے۔ مگر کیس اور سزآ کے عدالتی حکم میں اس قتل عام کو اشارہ ہی نہیں کیا گیا ہے۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج آنند رام ہوتوانی نے نشتر پارک میں عید میلاد النبی (ص) کے جلسے میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں کالعدم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے ملزمان عبدالباقی، یوسف چانڈیا اور اسماعیل چانڈیو کو مجموعی طور پر20 ، 20 سا ل قید ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ اور ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔

گزشتہ روز عدالت نے دھماکا خیز مواد رکھنے کے الزام میں 7,7 سال قید اور ملزمان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنیکا حکم دیا جبکہ بم رکھنے، پولیس مقابلہ مرکزی کیس میں10,10 سال قید50,50 ہزار روپے جرمانہ کی سزا اور عدم ادائیگی پر مزید ایک ایک سال قید کی سزاؤں کا حکم دیا جبکہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں 3.3 سال قید اور 50,50 ہزار روپے جرمانے اور عدم ادائیگی کی صورت میں مزید ایک ایک سال قید کی سزاؤں کا حکم دیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق سی آئی ڈی نے مخبر خاص کی اطلاع پر مارچ 2010ء میں گرومندر کے قریب چھاپہ مار کر ملزمان عبدالباقی، یوسف چانڈیو اور اسماعیل چانڈیو کو عید میلاد النبی (ص) کے جلسے سے ایک روز قبل گرفتار کر لیا تھا جبکہ ملزمان نور گل، حکیم اللہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش اگلے روز عید میلادالنبی (ص) کے جلسے میں دہشت گردی کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ مقدمہ میں سرکار کی پیروی محمد مبشر مرزا ایڈووکیٹ نے کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرہ:

لگتا ہے نشتر پارک میں انسان تو کیا ایک چڑیا بھی ہلاک نہیں ہوئی تھی کیونکہ مجرموں پر اسلحہ رکھنے، بم رکھنے، پولیس مقابلہ کرنے کی تو سزا دی گئی ہے لیکن کسی کے قتل کا نہ تو الزام نظر آرہا ہے اور نہ ہی قتل و اقدام قتل کے عوض دہشت گردوں کو کوئی سزا دی گئی ہے۔ کیا عدل ہے اور کیا انصاف!!!!؟؟؟؟ کیا اس ملک میں امن آسکتا ہے جہاں نہ صرف دہشت گردوں اور قاتلوں کو سزا نہیں دی جاتی بلکہ دہشت گرد پر دہشت گردی اور قاتل پر قتل کا الزام لگانے سے ہی اجتناب کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ رپورٹ کے مطابق اس سانحے میں 25 حافظ، 5 عالم دین اور 20 دیگر افراد قتل ہوئے تھے۔ جن میں حافظ تقی، حنیف بلو اور سنی تحریک کے رہنما شامل تھے۔ مگر کیس اور سزآ کے عدالتی حکم میں اس قتل عام کو اشارہ ہی نہیں کیا گیا ہے۔

/110