فائرنگ کے بعد دہشت گرد "معمول کے مطابق" فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔بلوچستان شیعہ کانفرنس نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ گورنر اور وزیر اعلیٰ نے بھی "معمول کے مطابق" دہشت گردی کی اس واردات میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لانے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کی شب 7 بجے کے قریب مسجد روڈ پر واقع العباس جنرل اسٹور کے مالک حاجی علی اکبر اپنے جوانسال بیٹے عبدالصمد سیکورٹی گارڈ جعفر اور ایک ملازم کے ہمراہ اسٹور بند کرکے اپنی گاڑی میں گھر جانے کیلئے روانہ ہوئے ان کی گاڑی جب مسجد روڈ اور آرچر روڈ کے سنگم پر پہنچی تو اچانک کالعدم ناصبی (لشکر جھنگوی ) کے دہشتگردوں نے ان پر اندھادھند فائرنگ کردی اور موقع سے فرار ہوگئے گاڑی میں سوار چار افراد موقع پر ہی شہید ہوئے جبکہ ایک اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر جام شہادت نوش کرگئے۔فائرنگ سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا اور مسجد روڈ ‘ عین الدین اسٹریٹ‘ آرچر روڈ ‘لیاقت بازار اور گردونواح میں لوگوں نے دکانیں بند کردیں۔
دریں اثناء شہید شیعہ تاجر کے قتل کا مقدمہ درج کرکے 10مشتبہ افراد گرفتار کرلئے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق کل واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر دس سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے تاہم مزید گرفتاریوں کیلئے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیس حکام نے انوسٹی گیشن اور آپریشن کی زیر نگرانی میں دو تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی ہیں ۔ قتل کا مقدمہ ایس ایچ او سٹی کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کیخلاف درج کر کے مزید کارروائی کی جارہی ہے۔
..........
/110