بوشہر ایٹمی بجلی گھر میں ایندھن پہنچانے کے ابتدائي مراحل 21 اگست کو ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ اور روس کی ایٹمی انرجی ایجنسی کے سربراہ سرگئي کرینکو اور آئي اے ای اے کے نمایندے کی موجودگي میں شروع ہوا تھا۔ بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے ری ایکٹر میں فیول راڈ پہنچانے سے ایندھن پہنچانے کا کام شروع ہوگیا ہے۔ اس طرح برسوں بعد اس ایٹمی بجلی گھر میں تیار ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوجائے گي۔ ترقی یافتہ دنیا میں بوشہر ایٹمی بجلی گھر جیسی تنصیبات ایک عام سا واقعہ ہے لیکن جو چیز اس ایٹمی بجلی گھر کو ممتاز بناتی ہے وہ سامراج کی جانب سے ایران کی ترقی کی راہ میں ڈالی جانے والی رکاوٹیں ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کئی عشروں سے بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے خلاف دشمنانہ رویہ اپنا کر کوشش کی ہے کہ یہ بجلی گھر مکمل نہ ہوپائے اور کام نہ شروع کرسکے لیکن یہ ساری کوششیں ناکام ہوچکی ہیں اور ان سے ملت ایران کے عزم و ارادے پر کوئي اثر نہیں پڑا ہے۔ اسی وجہ سے مغرب ملت ایران پر برہم ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں یورینیم کی افزودگي کے عمل کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے مترادف قرار دینے کے الزامات ایسے حال میں لگائے جارہے ہیں کہ ایران نے اپنے ترقیاتی پروگرام کے تحت کم از کم دس ایٹمی بجلی گھر بنانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہےکہ وہ اس طرح 20000 مگاواٹ بجلی پیداکرنا چاہتاہے۔ بوشہر ایٹمی بجلی گھر کی تکمیل سے واضح ہوگیا کہ ایران ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے زیر نگرانی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت پر امن ایٹمی توانائي کے استعمال کا پورا پورا اختیار رکھتا ہے نیز یہ توانائي پیدا کرنے کے لئے یورنینیم کی افزودگي بھی کرسکتا ہے کیونکہ این پی ٹی معاہدے کے تحت یہ ایران کا حق ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لئے یورینیم افزودہ کرے۔ایران کی یہ ساری ترقی ایسے حال میں حاصل ہوئی ہے کہ اسے ایٹمی ایندھن بنانے والے ملکوں کے بائیکاٹ کا سامنا ہے اور وہ ان کے کھوکھلے وعدوں پربھروسہ کرتے ہوئے اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کو روک نہیں سکتا۔ تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر کے لئے ایندھن فراہم کرنا ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی ذمہ داری ہے لیکن اس ری ایکٹر کے لئے ایندھن فراہم کرنے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے خط کو ایک سال ہونے کے باوجود بھی آئي اے ای اے نے ایران کو ایٹمی ایندھن فراہم نہیں کیا۔ یادرہے تہران کے ری ایکٹر سے نیوکلئر دوائيں بنائي جاتی ہیں اور ایران میں کم از کم دس لاکھ افراد کے ریڈیائی علاج کے لئے ان دواؤں کی ضرورت ہے اس کے باوجود بھی مغربی ملکوں نے اس ری ایکٹر کے ایندھن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں۔ ایران نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ وہ ایک برس میں تہران ری ایکٹر کے لئے ضروری ایندھن بناسکتا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے 17 مئي کو ترکی اور برازیل کے ساتھ تہران اعلامئے پر دستخط کئے ہیں تاکہ ایٹمی ایندھن کے تبادلے کے لئے ضروری ماحول پیدا ہوسکے۔ تہران اعلامئے پر دستخط کرنے کے بعد ایران نے مئي کے آخر میں آئي اے ای اے کے سربراہ کو ایک خط بھیجا جس میں مذاکرات کے لئے آمادگي کا اظہار کیا گيا تھا۔ امر مسلم یہ ہے کہ ایران کو امید ہے کہ آئي اے ای اے کے منشور میں پیش کئے گئے حقوق سب کے لئے برابر ہونگے اور اس میں امتیازی رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا اور آئي اے ای اے، این پی ٹی معاہدے کے مطابق تمام ارکان کو مساوی حقوق دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110