20 اکتوبر 2010 - 20:30

ایک برطانوی عدالت نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ کے جرائم پیشہ اور قاتل نواسے کو عمر قید کی سزا سنائي ہے جس پر لندن کے ایک ہوٹل میں اپنے ذاتی ملازم کو قتل کرنے کا الزام ثابت ہوگیا تھا ۔

شہزادہ سعود عبدالعزیز بن نصر السعود کو کم از کم بیس برس قید کی سزا دی گئی ہے۔جج جسٹس بین نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے سعودی عرب کےمجرم شہزادے سے کہا " تم اپنے ملازم پر مکمل اختیار اور اعتماد رکھتے تھے، تاہم تم نے اپنے اختیار کو بہیمانہ طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے ملازم کے اعتماد کو پاش پاش کردیا ، میں سمجھتا ہوں کہ تمہیں علم تھا کہ تمارا ملازم تمہارے بہیمانہ  عمل سے مر بھی سکتا ہے" جج نے کہا کہ میرے سامنے جو مجرم کھڑا ہے وہ سعودی شاہی خاندان کا کھڑا ہے اور سزا کا تعین خاندان سے نہیں بلکہ جرم کی وجہ سے ہوتا ہے۔ سعودی شہزادے کو ابتدا میں یہ گمان تھا کہ شاہی خاندان کا فرد ہونے کے باعث وہ سزا سے بچ جائیں گے۔ چونتیس سالہ شہزادے نے ملازم کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا مگر عمداً قتل کرنے سے انکار کیا۔

واضح رہے کہ شہزادے نے جس وقت اپنے ذاتی ملازم کے قتل کا ارتکاب کیا وہ نشے میں دھت تھے۔ یہ قتل پندرہ فروری کو ہوا تھا۔ برطانوی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ شہزادے کے اپنے ملازم کے ساتھ جنسی روابط تھے اور وہ دونوں ایک ہی کمرے میں ٹھہرتے تھے۔ پولیس نے ایک ایسی ویڈیو بھی عدالت میں پیش کی تھی۔ سعودی شہزادے نے برطانوی پولیس کو بتایا کہ ان کے والد سعودی بادشاہ عبداللہ کے بھیتیجے ہیں جبکہ ان کی ماں شاہ عبد اللہ کی بیٹی ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کے لوگ اکثر ہولناک اور وحشیانہ جرائم میں ملوث رہتے ہیں یہ واقعہ ان کے جرائم کی ایک معمولی جھلک ہے سعودی شاہی خاندان نے وہابیت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور آج بھی منحرف اور گمراہ وہابیوں کی سرپرستی کررہا ہے۔

.........

/110