15 اکتوبر 2010 - 20:30

یورپی یونین کے شعبۂ خارجہ پالیسی کی سربراہ اور گروپ پانچ جمع ایک کی نمائندہ کیتھرین اشٹون کی جانب سے نومبر کے مہینے میں ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کی بحالی کی تجویز کے بعد ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متکی نے اس تجویز کو مثبت اور آگے کی سمت ایک قدم قرار دیا ہے۔

کیتھرین اشٹون کے ترجمان نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ اشٹون نے ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری اور ایران کے ایٹمی مذاکراتی وفد کے سربراہ سعید جلیلی کے نام خط میں انہیں نومبر کے مہینے میں ویانا میں مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس سے قبل اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں ان مذاکرات کے لیے اپنی آمادگي کا اعلان کیا تھا۔ اسی بنیاد پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے گزشتہ ہفتے اپنی پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات کا موضوع اسلامی جمہوریہ ایران کا مجوزہ پیکج ہو گا۔ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے چھ جولائی کو بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے لیے یورپی یونین کی تجویز کے جواب میں کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے مجوزہ پیکج کے دائرے میں یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کرنے کےلیے تیار ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا اس بات کا اعلان کیا ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے لیے واحد مناسب آپشن اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون کے مقصد سے مذاکرات اور بات چیت ہے۔ مذاکرات کے مقابل فریق نے بھی اس حقیقت کا تجربہ کیا ہے کہ بائیکاٹ دھمکیوں اور ملکوں کے حقوق اور این پی ٹی معاہدے کے برخلاف کی جانے والی درخواستوں کی مانند غیر منطقی اقدامات کا سہارا لینا منصفانہ گفتگو اور مذاکرات سے پہلوتہی کرنے کے مترادف ہے کہ جس کا کوئي نتیجہ برآمد نہیں ہو گا۔ دریں اثنا سابقہ مذاکرات سے جو چیز واضح ہو کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یورپی فریقوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ایرانی صدر کی جانب سے اٹھائے گئے بعض سوالوں کا جواب دیں۔ کیونکہ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ مذاکرات کا مقصد تعاون کرنا ہے۔ اس کے باوجود کہ مقابل فریق بدستور دشمنی کے عمل کو جاری رکھنے اور ملت ایران کے حقوق کو پامال کرنے پر تلا ہوا ہے۔ این پی ٹی معاہدے اور اسی طرح صیہونی حکومت کے ایٹمی ہتھیارورں کے بارے میں گروپ پانچ جمع ایک میں موجود یورپی مذاکراتی فریقوں کی جانب سے واضح موقف کا اعلان بھی ان اہم موضوعات میں سے ہے کہ جن پر ایران کے مجوزہ پیکج میں زور دیا گيا ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اس راستے پر چل کر ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے سلسلے میں ملکوں کے حقوق کے احترام پر مبنی جامع مذاکرات کے لیے مناسب راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔ ان ہی باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران نے تہران کے ساتھ گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کی بحالی پر مبنی کیتھرین اشٹون کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110