12 اکتوبر 2010 - 20:30

صدر آصف علی زرداری سنجیدہ طور پر یہ مانتے ہیں کہ امریکا پاکستانی طالبان کے ذریعے پاکستان میں (خودکش) حملوں کا ”انتظام“ کرتا ہے اور جب اس بات کا ذکر خلیل زاد کے سامنے کیا گیا تو انہوں نے اس دعوے کو ”پاگل پن“ قرار دیا۔

اس دعوے کے حوالے سے تفصیلات امریکی صحافی باب ووڈورڈ نے اپنی کتاب ”اوباما کی جنگیں“ میں صفحہ نمبر 116/ پر پیش کی ہیں۔ یہ انکشاف زرداری کی زیر قیادت پیپلز پارٹی کی حکومت (جسے امریکی حکام نا اہل گردانتے ہیں) اور مایوس و ناخوش امریکی سفارت کاروں کے مابین پیچیدہ تعلقات پر روشنی ڈالتا ہے۔ زرداری کو یہ معلومات کرزئی سے ملیں، جسے بعد میں خلیل زاد تک پہنچایا گیا۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ پاکستانی صدر کرزئی کی رائے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں حالانکہ امریکی عہدیدار انہیں (کرزئی کو) ایک بوجھ سمجھتے ہیں۔ امریکی عہدیدار نے کرزئی اور زرداری کی اس رائے کو پاگل پن قرار دیتے ہوئے ان دونوں کے بارے میں اپنی یہ رائے مضبوط کرلی کہ دونوں کی حکومتیں غیر سنجیدہ ہیں۔ خلیل زاد کے مطابق دونوں حکومتیں ”غیر فعال“ ہیں۔ ووڈورڈ نے اس بات کا احوال کچھ اس طرح پیش کیا ہے: ”ایک شام (واشنگٹن میں اوباما، کرزئی اور زرداری کے درمیان) سہ فریقی اجلاس کے موقع پر زرداری نے افغانستان، عراق اور اقوام متحدہ میں خدمات انجام دینے والے 58/ برس کے امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد کے ساتھ رات کا کھانا کھایا۔ اس موقع پر زرداری نے اشارتاً کہا کہ پاکستان میں بھارت یا امریکا میں سے کوئی ایک پاکستانی طالبان کے ذریعے حملے کروا رہا ہے۔ زرداری کے مطابق بھارت اتنا چالاک نہیں ہوسکتا؛ امریکا یہ کام کرسکتا ہے۔ کرزئی نے انہیں بتایا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے جس سے آئی ایس آئی کے دعووں کی تصدیق ہوتی ہے“۔ اس موقع پر خلیل زاد نے کہا، ”صدر صاحب، ہمیں ایسا کرکے کیا حاصل ہوگا؟ کیا آپ مجھے اس کی منطق بتا سکتے ہیں“۔ زرداری نے قیاس آرائی کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ سب پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ امریکا چڑھائی کرکے ہمارے جوہری ہتھیاروں پر قبضہ کرلے۔ پرتشدّد واقعات میں اضافے کی ان کے پاس کوئی دوسری وجہ نہیں ہے، اور یہ کہ سی آئی اے نے کبھی پاکستانی طالبان (جن کاتعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے اور اسی گروپ نے حکومتی مفادات پر حملے کئے ہیں) کا پیچھا نہیں کیا۔ تحریک طالبان پاکستان پر زرداری کی اہلیہ بینظیر بھٹو کے قتل کا بھی الزام ہے“۔ ووڈورڈ نے بتایا کہ اس موقع پر زرداری نے کہا، ”طالبان کے جن ٹھکانوں کا پتہ ہم آپ لوگوں کو بتاتے ہیں، آپ ان پر حملے نہیں کرتے، آپ دوسرے علاقوں میں کارروائی کرتے ہیں، ہمیں حیرت ہے“۔ خلیل زاد نے جواب دیا کہ ” لیکن ڈرون حملوں کا بنیادی مقصد القاعدہ اور افغان جنگجوؤں کو نشانہ بنانا ہے؛ پاکستانی طالبان کو نہیں“۔ زرداری نے کہا، ”لیکن طالبان تحریک القاعدہ سے جڑی ہوئی ہے لہٰذا پاکستان کے تجویز کردہ ٹھکانوں پر کارروائی نہ کرکے امریکا تحریک طالبان پاکستان کیلئے ایک طرح سے اپنی حمایت کا اظہار کررہا ہے۔ سی آئی اے تو ایک مرتبہ اس گروپ کے لیڈر بیت اللہ محسود کے ساتھ کام بھی کرچکی ہے“۔ ووڈورڈ کے مطابق، ”خلیل زاد نے پوری بات اطمینان اور سکون کے ساتھ سنی، حالانکہ ان کے نزدیک یہ دعوے پاگل پن تھے۔ ان کے بقول امریکا طالبان کو پاکستانی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے استعمال کر رہا ہے؟ کیا بیہودگی ہے۔ لیکن خلیل زاد کو علم تھا کہ افغانستان کے صدر کرزئی بھی اسی سازشی نظریے پر یقین رکھتے ہیں جو اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ دنیا کے اس خطے سے تعلق رکھنے والے یہ رہنما ”غیر فعال“ ہیں۔” زرداری کے دعووں کے باوجود، پاکستانی سرکاری عہدیداروں کو بیت اللہ محسود کی تحریک طالبان پاکستان کیخلاف حملوں کے بارے میں سی آئی اے کی جانب سے اعلیٰ سطح پر ایک بریفنگ دی گئی۔ محسود کے ٹھکانے پر 12/ مارچ 2009ء کو ہونے والے ایک حملے میں تقریباً 2/ درجن جنگجو مارے گئے جس کے بعد ان کے ساتھیوں نے اپنے مرنے والے ساتھیوں کی باقیات فوراً ہٹا دیں۔ پاکستانی حکام کو سی آئی اے کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یکم اپریل کو ایک اور حملے میں محسود سے تعلق رکھنے والے 5/ جنگجو ہلاک ہوئے، جن میں القاعدہ کا ایک تربیت کار بھی شامل تھا“۔ اگرچہ باب ووڈورڈ کی جانب سے بتائی جانے والی یہ باتیں پرانی ہیں لیکن ان سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ زرداری اور ان کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے والے پاکستان کے اندر ہونے والے خود کش حملوں سے نمٹتے ہیں۔ صفحہ نمبر 116/ اور 117/ کے واقعات میں باب ووڈورڈ نے یہ نہیں بتایا کہ امریکا کے ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود مارا گیا تھا اور زرداری کا نظریہ، کہ امریکا تحریک طالبان پاکستان کو استعمال کرکے پاکستان میں حملے کروا رہا ہے، جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ زرداری کے ٹھوس سازشی نظریے نے امریکی ماہرین اور سی آئی اے کو مجبور کردیا کہ وہ انہیں (زرداری کو) غلط ثابت کرنے کیلئے پاکستانی طالبان کے خلاف حملوں میں تیزی لائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110