9 اکتوبر 2010 - 20:30

مشرف: بگٹی کا بیٹا دھمکیاں نہ دے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے۔

سابق صدر نے کہا ہے کہ بگٹی کے بیٹے سے کہتا ہوں کہ دھمکیاں دینا چھوڑ دیں اور میری آنکھوں میں آنکھوں ڈال کر بات کرے۔بلوچستان میں میرے دور میں سب سے زیادہ کام ہوئے،انہوں نے کہا کہ نواز شریف کشمیر کا سودا کر چکے تھے طلال اکبر بگٹی: مشرف دور کے ایک حساس ادارے کے سابق عہدیدار نواب بگٹی قتل کیس میں وعدہ معاف گواہ بننا چاہتے ہیں، سابق صدر واجب القتل ہیں، جو بھی ان کو قتل کرے گا، اسے ایک ارب روپے مالیت کی ہزار ایکڑ زمین کچھی کینال میں دی جائے گی، مشرف کو پھانسی ہوگی تو بلوچستان کے لوگ مطمئن ہوں گے۔ جمہوری وطن پارٹی کے صدر نوابزادہ طلال بگٹی نے کہا کہ پرویز مشرف کی جانب سے نواب اکبر بگٹی پر غداری کا الزام قابل مذمت ہے۔ مشرف نے نواب اکبر بگٹی کو قتل کرنے کی بات تسلیم کر کے اپنے خلاف مقدمے کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حساس ادارے کے سابق عہدیدار بریگیڈئر ریٹائرڈ مسعود ملک نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ نواب اکبر بگٹی کے قتل میں وعدہ معاف گواہ بننے کیلئے تیار ہیں، لہذا سپریم کورٹ ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری اور حکومت ان کی گرفتاری کے لئے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والے نے جتنا نقصان ملک کو پہنچایا اتنا کسی اور نے نہیں پہنچایا، اگر وہ خود کو اتنا دلیر اور جرأت مند سمجھتے ہیں، تو پاکستان واپس آ کر مقدمات کا سامنا کریں، نیٹو کنٹینرز پر حملے ملی بھگت سے ہو رہے ہیں۔این این آئی کے مطابق طلال بگٹی نے کہا کہ پرویز مشرف پر لال مسجد میں معصوم بچوں کو قتل کرنا، قرآن پاک کی توہین کرنا اور نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کا مقدمہ بھی درج ہے۔ مشرف بیرون ملک بیٹھ کر جو باتیں کر رہے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا ذہنی توازن خراب ہو گیا ہے۔ پریس کانفرنس میں مسلم لیگ نواز گروپ کے سردار یعقوب ناصر بھی موجود تھے۔دوسری جانب سے مانچسٹر میں مقیم سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بگٹی کا بیٹا دھمکیاں نہ دے اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے، مجھ سے زیادہ لڑنا کوئی نہیں جانتا، سیاستدان کشمیر پر سیاست چمکانے آ گئے ہیں۔ مانچسٹر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے حوالے سے میرے ریمارکس سخت تھے، تاہم نواز شریف کی کسی بات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا، بدتمیزی کے مقابلے میں بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا، تاہم اینٹ کا جواب پتھر سے دوں گا۔سابق صدر نے کہا کہ پاکستان گیا تو ملک کی صورتحال بدل دوں گا۔ پاکستان میں میرے لئے کوئی خطرہ نہیں، قدم بڑھانے کیلئے ڈروں گا نہ خوف زدہ ہوں گا۔ پاکستان نیچے کی طرف جا رہا ہے، اس کا مقدر بہتر بنا دیں گے، کوئی جماعت یا شخصیت نظر نہیں آ رہی، جو ملک کو اندھیروں سے نکال سکے۔ انہوں نے کہا کہ این آر او پر امریکی سفیر کے بیان پر افسوس ہوا۔ این آر او پر مذاکرات میں امریکی سفیر کو شریک نہیں کیا تھا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ بگٹی کے بیٹے سے کہتا ہوں کہ دھمکیاں دینا چھوڑ دیں اور میری آنکھوں میں آنکھوں ڈال کر بات کرے۔ بلوچستان میں میرے دور میں سب سے زیادہ کام ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110