6 اکتوبر 2010 - 20:30

اردن کی جماعت اخوان المسلمین نے زوجات النبی (ص) کی حرمت کے حوالے سے حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے فتوی کی تعریف و تمجید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام نہایت قابل قدر ہے اور اس فتوی نے مسلمانان عالم کے اتحاد کا تحفظ کرنے اور مذہبی فتنوں کا سد باب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اردن کی جماعت "اخوان المسلمین" نے زوجات انبیاء علیہم السلام بالخصوص زوجات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل سنت کے مقدسات و علائم کی کسی بھی قسم کی توہین کو حرام قرار دیئے جانے کے سلسلے میں آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے فتوی کی قدردانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فتوی پر توجہ مرکوز رکھنا اتحاد بین المسلمین کے لئے ضروری ہے۔ جماعت اخوان المسلمین اردن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی یادداشت میں اس جماعت کے راہنما "ڈاکٹر ہمام سعید" نے کہا ہے کہ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ـ شیعیان اہل بیت (ع) کے اعلی ترین دینی مرجع کی حیثیت سے ـ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زوجات اور اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے اور میں ان کے اس اقدام کو خراج تحسین و تقدیر پیش کرتا ہوں۔ ڈاکٹر ہمام سعید نے اس فتوی کو وحدت مسلمین کے تحفظ اور مذہبی فتنے کے سد باب کے لئے بہت اہم قرار دیا اور اسلامی امّہ سے اپیل کی ہے کہ عالم اسلام کی دشمن نمبر1 صہیونی ریاست اور اس کے حامی امریکہ کے خلاف متحد ہوجائیں۔انھوں نے فلسطین، عراق اور افغانستان میں امت اسلامی پر دشمنوں کے حملوں کے ساتھ ساتھ ان کی طرف سے مذہبی تناؤ بڑھانے کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کے لئے گھات لگائے دشمن مسلمانوں کو دست بگریباں کرنے کی غرض سے فتنوں کی آگ بهڑکانا چاہتے ہیں اور معاندانہ سازشوں پر عمل پیرا ہو کر اپنے مذموم مقاصد تک پہنچنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی شہر "الاحساء" کے علماء و عمائدین نے رہبر انقلاب اسلامی سے استفتاء کیا تھا جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:"امت اسلامی ایک منظم بحران سے گذر رہی ہے اور یہ بحران اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان تفرقہ و انتشار دیتے ہوئے مسلمانوں کی صفوں میں وحدت کی ترجیحات کی عدم رعایت کا باعث بن رہا ہے اور یہ مسائل مسلمانوں کے اندرونی اختلافات اور فتنوں کی بنیاد بن رہے ہیں؛ امت کی تقدیر میں مؤثر اور حساس مسائل کے سلسلے میں اسلامی جدوجہد میں انتشار کا باعث بن رہے ہیں؛ اور اس انتہا پسندانہ روش کے نتیجے میں ارادی طور پر سنی مکتب کی علامتوں اور مقدسات کی مسلسل توہیں ہورہی ہے۔ ان مسائل کے پیش نظر بعض سیٹلائٹ چینلز، انٹرنیٹ ویب سائٹس پر علم و دانش سے منسوب بعض افراد کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زوجہ ام المؤمنین عائشہ کے سلسلے میں بھونڈے الفاظ اور صریح اہانت ـ جو ازواج النبی (ص) اور امہات المؤمنین کی شرافت میں خلل ڈالتی ہے ـ کے بارے میں آپ جناب کی رائے کیا ہے؟چنانچہ ہم آپ جناب سے امید کرتے ہیں کہ آپ اسلامی معاشروں میں اضطراب کا سبب بننے والے مسائل اور مکتب اہل البیت علیہم السلام کی پیروی کرنے والے مسلمانوں سمیت دوسرے مسلمین پر نفسیاتی دباؤ کا موجب بننے والے مسائل کے بارے میں واضح شرعی موقف بیان فرمائیں گے جبکہ آپ جانتے ہیں کہ بعض فتنہ پرور عناصر بعض سیٹلائٹ چینلز اور انٹرنیٹ ویب سائٹس پر اسلامی دنیا کو آشوب زدہ کرکے مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔آخر میں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کی عزت مستدام رکھے اور آپ کو اسلام اور مسلمین کے لئے ذخیرہ قرار دے"۔ جس کے جواب میں امام السید علی الحسینی الخامنہ ای حفظہ اللہ تعالی نے ذیل کا فتوی صادر فرمایا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

ہمارے سنی بھائیوں کی علامتوں اور مقدسات کی توہیں بالخصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زوجات پر تہمت باندھنا ـ جو ان کے شرف میں خلل پڑنے کا باعث ہو ـ حرام ہے بلکہ یہ امر تمام انبیاء خاص طور پر ان کے سرور و سردار رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ کی زوجات کے لئے محال ہے۔..............{وضاحت:  جو تہمتیں حال ہی میں رسول اللہ (ص) کی زوجہ پر لگائی گئی ہیں شیعہ اعتقادات کے مطابق انبیاء کی زوجات حتی کہ حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی بیویوں پر بھی نہیں لگائی جاسکتیں اور انبیاء (ع) کا حریم ان تہمتوں سے مکمل طور پر پاک ہے اور آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے فتوے کے دوسرے حصے کا مطلب یہی ہے}۔ ..............یہ استفتاء سابق کویتی فوجی اور موجودہ نام نہاد شیخ "یاسرالحبیب" کی جانب سے زوجات نبی (ص) کے خلاف نہایت بھونڈی زبان استعمال کئے جانے اور شیعہ اعتقادات کی کلی طور پر پامالی کے بعد بھیجا گیا تھا۔ جس کا رہبر معظم نے جواب دیا اور شیخ الازہر سمیت شیعہ اور سنی علماء نے اس فتوی کا خیر مقدم کیا تا ہم وہابی ذرائع نے اس عظیم اقدام کو نظر انداز کرتے ہوئے یاسر الحبیب کا شکریہ ادا کیا اور سعودی مفتی اعظم نے کہا کہ یاسر الحبیب نے عرب ممالک میں تشیع کے فروغ کا سد باب کیا ہے اور اس نے اہل تشیع کے خفیہ عقائد کو آشکار کردیا۔ اس وہابی مفتی کے رد عمل میں شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کا جواب ملاحظہ ہو:

- یاسر الحبیب، سفیہ ہے اور وہابی اس سے بھی زیادہ نادان ہیں

دیگر لنکس ملاحظہ ہوں:

- آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا فتوی؛ شیخ الازھر نے حمایت کردی / استفتاء اور فتوی کا متن

- رہبر انقلاب کے فتوی نے وہابی / صہیونی سازش کو ناکام بنادیا

- رہبر انقلاب کا فتوی؛ عرب دینی راہنماؤں کا خیر مقدم

- رہبر انقلاب کے فتوی نے وہابی / صہیونی سازش کو ناکام بنادیا

- رہبر انقلاب کا فتوی؛ عرب دینی راہنماؤں کا خیر مقدم

- آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا فتوی تکلف نہیں بلکہ یہ اتحاد اسلامی پر آپ کے یقین کی علامت ہے

- آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا فتوی؛ عالم اسلام کا زبردست خیر مقدم

حوزہ علمیہ کے اساتذہ کی طرف سے لندن نشین عالم نما شخص کے تفرقہ انگیز بیانات کی مذمت