انہوں نے کہا:* جب کبھی بھی ملک افراتفری میں ہوتاہے عوام فوج کی طرف دیکھتی ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فوجی بغاوتوں کا وقت اب ختم ہوگیا۔ نئی سیاسی تبدیلی یہ آئی ہے کہ سپریم کورٹ نے خود اس پابندی پر عملدرآمد کرنے کا ارادہ کرلیا ہے کہ وہ فوجی بغاوت کو آئینی قرار نہیں دیں گی۔ * پاکستان معاشی بدحالی کا شکار ہے، امن و امان کی صورت حال خراب ہے، عسکریت پسندی زوروں پر ہے اور سیاسی ہلچل بھی ہے، ایک منتخب حکومت کی ناقص کا رکردگی ہی اصل مسئلہ ہے۔ * میرے مخالف اور خاص کر نواز شریف میرے خلاف مقدمات بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہوں گے اگر انہوں نے ایسا کیا تو میں انہیں عدالت میں جواب دوں گا، میں گوشہ نشینی کی زندگی پسند نہیں کرتا ۔میں نے آٹھ ماہ قبل فیس بک پرآنا شروع کیا اور اس وقت3 لاکھ 15ہزار پرستار ہیں. * مغرب نے کشمیر پر قراردادیں نظر انداز کر دیں اس لیے کشمیری عسکریت پسندتنظیمیں تشکیل دی گئیں۔ کیا کشمیر کے لیے زیر زمین جنگجو کو تربیت دینا ٹھیک ہے تو مشرف نے کہا ہاں۔ * ڈاکٹر عبد القدیر کا کردار خراب ہے، حکومتوں نے ان سے آنکھیں بند رکھیں کیونکہ وہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتی تھیں۔ * اگر میں نیو کلیئر ہتھیار امریکا کو دیتا تو میں غدار ہوتا۔ اس پر ہم کبھی سمجھوتا نہیں کرسکتے. * مغرب نے تین بڑی غلطیا ں کی ہیں۔ 1989میں سوویت کے انخلا کے بعد اس خطے کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔ 9/11کے بعد پشتونوں کو مضبوط کرنے کی بجائے طالبان سے جنگ کی ۔ تمام طالبان پشتون ہیں لیکن تمام پشتون طالبان نہیں ہیں۔ میں لندن میں کافی پیسہ کما لیتا ہوں اور میں یہاں خوش ہوں۔
..........
/110