29 ستمبر 2010 - 20:30

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے آج مولانا حسن ترابی شہید کیس میں کالعدم تنظیم کے تین دہشت گردوں کو سزائے مو ت جبکہ تین کو عمر قید کے ساتھ ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی۔

 مولانا حسن ترابی شہید کو کالعدم دہشت گروں اُس وقت اپنی دہشت گردی خود کش حملہ کا نشانہ بنایا تھا جب مولانا حسن ترابی اور اُن کے بھتیجے علی عمران امریکہ و اسرائیل مخالف ریلی سے واپس اپنے گھر آرہے تھے۔ واضح رہے شہادت سے پہلے بھی مولانا حسن ترابی  شہید پر  کافی حملے ہوچکے تھے جس کی اف۔آی۔آر متعلقہ تھانے میں درج تھی اور پولیس نے مولانا حسن ترابی شہید کیس میں کالعدم دہشت گرد تنظم سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سلطان محمد،محمد امین، رحمٰن، اکبر خان، رحیم اللہ اور اشفا ق کو گرفتار کر لیا تھا جس کا فیصلہ آج فاضل عدالت نے سناتے ہوئے کالعدم تنظیم کے تین دہشت گردوں سلطان محمد ،محمد امین،رحمٰن کو سزائے موت جبکہ اکبر خان ،رحیم اللہ اور اشفاق کو عمر قید کے ساتھ ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔واضح رہے کے شہید مولانا حسن ترابی اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے۔شہید مولانا حسن ترابی متحدہ مجلس عمل کے نائب صدر اور تحریک جعفریہ سندھ کے نائب صدر تھے۔علامہ ترابی قتل کیس: تین ملزمان گرفتار پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں پولیس نے شیعہ عالم حسن ترابی کے قتل میں ملوث تین ملزموں کو گرفتار کرکے خودکش بمبار کی سی ڈی برآمد کرنے کی دعویٰ کیا۔سندھ پولیس کے سربراہ جہانگیر مرزا نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا تھا کہ کراچی کے علاقے لانڈھی میں اولڈ مظفر کالونی کے ایک مکان سے ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ان کی شناخت محمد امین عرف شاہین عرف عبداللہ، سلطان محمود عرف سیف اللہ عرف مسلم اور محمد رحمان عرف مانی کے نام سے کی گئی تھی۔پولیس سربراہ کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے علامہ حسن ترابی پر خود کش حملے کے اعتراف سمیت خودکش بمبار کی شناخت بنگالی نژاد عبدالکریم عرف محمد کریم عرف قاسم ولد چاند میاں کے نام سے کی ہے جو کراچی کے فیڈرل تھی ایریا کا رہائشی تھا۔پولیس نے ملزمان سے پچیس کلوگرام پوٹاشیم کلورائیڈ، ایک کلوگرام دھماکہ خیز مواد، دو دستی بم، ایک ریوالور اور دو ٹی ٹی پستول برآمد کئے تھے۔آئی جی نے بتایا تھا کہ جس گھر سے گرفتاریاں عمل میں آئیں وہ ملزم امین کا ہے اور اس مکان سے ایک کمپیوٹر، ایک ویڈیو کیمرہ اور دو سی ڈیز بھی برآمد ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک سی ڈی میں حملہ آور کا بیان بھی ریکارڈ ہے۔ آئی جی نے بتایا تھا کہ ملزمان کا تعلق کچھ کالعدم جہادی تنظیموں سے الگ ہونے والے انتہا پسندوں سے ہے جو ملک دشمن اور فرقہ ورایت کی طرف مائل ہیں۔مبینہ خودکش بمبار کی سی ڈی میں ایک نوجوان کو دکھایا گیا تھا جس نے خودکش بمبار کی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ مبینہ بمبار اپنے والدین کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہے کہ ’میں کفار کے سردار کو مارنے جارہا ہوں میں جنت میں جاؤں گا اور سب کو جنت میں لے جاؤں گا۔ یہ بہت افضل کام ہے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا تھا کہ مبینہ بمبار کی ماں کو پولیس نے حراست میں لیا تھا تاکہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے اس کے خون کے نمونے حاصل کیئے جائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110