29 ستمبر 2010 - 20:30

امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا کہ امریکہ کا اتحادی ہونے کا یہ صلہ دیا جارہا ہے کہ نیٹو افواج پاکستانی شہریوں کو شہید کرنے کے ساتھ پاک فوج کو بھی نشانہ بنارہی ہیں۔

نیٹو فورسز کی جانب سے ایک بار پھر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی گئی ہے. کرم ایجنسی میں نیٹو ہیلی کاپٹر کی شیلنگ سے تین سیکیورٹی اہلکار جاں بحق اورتین زخمی ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق نیٹو فورسز کے دو ہیلی کاپٹروں نے پاکستانی حدود میں داخل ہوکر پاک افغان سرحد پرکرم ایجنسی کے علاقے تری منگل کے قریب مندتو کنڈاؤ میں شدید شیلنگ کی جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے تین اہلکار جاں بحق اور تین اہلکار زخمی ہوگئے۔ کارروائی کے بعد اتحادی ہیلی کاپٹر واپس افغانستان چلے گئے۔ذرائع کے مطابق شیلنگ کی آوازیں پاراچنار شہر سمیت ملحقہ علاقوں میں بھی سنی گئیں۔ذرائع کے مطابق تین روز قبل بھی اتحادی ہیلی کاپٹرز نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متہ سنگر کے علاقے میں کارروائی کی تھی جس میں چھ افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے تھے۔  پاکستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کے ہیلی کاپٹر پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور نیم فوجی دستے کی ایک شناختی چوکی کو نشانہ بنایا۔اس کارروائی میں نیٹو فورسز کے دو گن شپ ہیلی کاپٹرز شریک تھے جنہوں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرنٹیئر کور کی ایک چیک پوسٹ پربمباری کی۔آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جمعرات کی صبح تقریبا5بجکر25 منٹ پر افغانستان سرحد کی طرف سے دو ہیلی کاپٹرز نے اپر کرم ایجنسی کے علاقے منداتہ کنڈاؤ میں پاکستانی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے رائفل فائر کرکے خلاف ورزی کی نشاندہی کی جس پر ہیلی کاپٹرز نے دو میزائل پاکستانی چیک پوسٹ پر میزائل فائر کئے جس کے نتیجہ میں تین ایف سی اہلکار شہید اور تین زخمی ہوگئے،ترجمان کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سرحدی خلاف ورزی کی یہ تیسری کارروائی ہے، اس سے قبل27 ستمبر کو ہونے والے واقعہ پراعلٰٰی فوجی سطح پررابطہ کیا گیا،اور امریکا نے27 ستمبر کے واقعہ پر معذرت کا اظہار کیا۔گورنر خیبر پختونخوا اویس احمد غنی نے نیٹو کے ہیلی کاپٹروں کی پاکستانی علاقے میں فرنٹیئر کور کی سرحدی چوکی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو اب اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ پشاور میں جاری ایک بیان میں اویس احمد غنی نے نیٹو پیلی کاپٹر وں کے فرنٹیئر کور کی چوکی پر حملے کو بلاجواز اور پاکستان کی علاقائی خود مختاری پاکستانی عوام کیخلاف کھلی جارحیت قرار دیا۔ ان کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں صف اول کا اتحادی ہے ایسے میں اس قسم کے افسوس ناک واقعات کسی بھی طور مناسب نہیں ہیں۔ گورنر نے کہا کہ ایسے واقعات کے بعد حکومت کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی ۔  دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے اسلام آباد میں ہونے والی ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اپنی خود مختاری کی ہر قیمت پر حفاظت کریگا! ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نیٹو کی خلاف ورزیوں پر پہلے ہی سخت احتجاج کر چکا ہے۔ تا ہم ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر اوباما کے نومبر میں دورہ بھارت کے پروگرام میں پاکستان کا دورہ شامل نہیں ہے، تاہم اگر وہ پاکستان آئیں تو ان کو پرجوش انداز میں خوش آمدید کہا جائے گا!!دریں اثناء طورخم بارڈر پر نیٹو کیلئے سامان لے جانیوالے قافلوں کو روک لیا گیا گیا ہے۔  کرم ایجنسی میں نیٹو فورسز کے طیاروں کی پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر طورخم بارڈر پر نیٹو اور ایساف کے لیے جانیوالے سامان کے قافلوں کو روک دیا گیا ہے۔ سامان کی ترسیل روکے جانے کے بعد پاک افغان سرحد طورخم پر سیکڑوں ٹرک اور کنٹینرز کھڑے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق نیٹو فورسز کیلئے سامان لے جانیوالے کنٹینرز کو روکنے کا مقصد سکیورٹی خدشات ہیں۔ طورخم بارڈر کے علاوہ پشاور اور نوشہرہ میں بھی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت نیٹو فورسز کیلئے سامان لیجانے والے ٹرکوں کو مختلف مقامات پر روک دیا گیا ہے۔ سکیوررٹی ذرائع کے مطابق نیٹو ہیلی کاپٹرز نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کرم ایجنسی میں مندتو کنڈاو میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر شیلنگ کی، جس سے تین سکیورٹی اہلکارشہید اور تین زخمی ہوگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے نیٹو فورسز کی جارحیت کیخلاف ضروری حفاظتی اقدامات کر لیے ہیں جس سے عوام کو جلد آگاہ کر دیا جائیگا۔  نیٹو کا دعوی: اپنے دفاع میں پاکستانی سرحدی حدود میں داخل ہوئے۔ کابل میں ایساف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقے میں متعدد مسلح افراد کی جانب سے نیٹو طیاروں پر حملے کا خدشہ تھا۔ طیارے اپنے دفاع میں سرحدی علاقے میں داخل ہوئے اور کارروائی کی۔ بیان میں تصدیق کی گئی کہ فضائی کارروائی کے دوران کئی افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ادھر جماعت اسلامی نے نیٹو کی جانب سے ملکی حدود کی خلاف ورزیوں اور پاکستان میں حملے کے خلاف جمعے کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔منصورہ لاہورسے جاری بیان میں امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا کہ امریکہ کا اتحادی ہونے کا یہ صلہ دیا جارہا ہے کہ نیٹو افواج پاکستانی شہریوں کو شہید کرنے کے ساتھ پاک فوج کو بھی نشانہ بنارہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت دہشتگردی کیخلاف نام نہاد جنگ سے فوری الگ ہو جائے اور نیٹو کی سپلائی بند کرکے ان سے ائیرپورٹ واپس لے لیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ جمعے کو مظاہرے کیے جائیں گے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔

........

/110