17 ستمبر 2010 - 19:30

آج اسلامی جمہوریہ ایران دارالحکومت تہران سمیت پورے ایران میں نماز جمعہ کے فورا بعد لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف نعرے لگائے ۔

مظاہرین نے جلوسوں کے اختتام پرایک قرار داد پاس کی جس میں کہا گيا ہےکہ عالمی صیہونیزم اور مجرم امریکہ کے ہاتھوں قرآن کی بے حرمتی کا سبب ان کی بیچارگي اور مغرب کے لبرل دیموکریٹک نظاموں کا زوال ہے۔اس قرارداد میں کہا گیا ہےکہ قرآن کریم آسمانی کتاب ہے اور اس کی بےحرمتی تمام تمام ادیان الھی اور انبیاء کی بے حرمتی ہے۔ اس قرارداد میں مغرب کے لبرل اور سرمایہ دارانہ نظام کو خبر دار کیا گيا ہےکہ اگر وہ دین اسلام کے مقابل کھڑا ہوگا تو اسلام بھی اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔ اس قرارداد میں آيا ہےکہ ملت ایران سمیت دنیا کے بیدار مسلمانوں کو کسی طرح کا شک نہیں ہےکہ گيارہ ستمبر دوہزار ایک کے واقعے میں صیہونی لابیاں ملوث ہيں اور ملت ایران اور بیدار مسلمانوں نے دنیا کے آزاد ضمیر افراد اور دانشوروں سے اپیل کی ہےکہ مستقل اور آزاد تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دے کر گيارہ ستمبر دوہزار ایک کے مشکوک واقعات میں دین مخالف صیہونی عناصر کے اصلی چہروں سے نقاب ہٹائيں۔اس قرارداد میں آیا ہےکہ قرآن مقدس کی بےحرمتی کا اقدام مسلمانوں اور عیسائیوں کےدرمیاں تنازعہ پیداکرنے کی کوشش ہے لھذا ملت ایران کلیسا کو خبردار کرتی ہےکہ وہ عالمی سامراج کی سیاسی چالوں میں نہ پھنسے اور حضرت عیسی علیہ السلام کے حقیقی پیرووں سے اپیل کرتی ہےکہ وہ ہوشیار رہیں۔

۔۔۔۔۔۔

/110

تصویری رپورٹیں:

- تہران میں قرآن مجید کی بے حرمتی اور توہین کے خلاف عظیم احتجاجی مظاہرہ// تصویری رپورٹ(1)

- تہران میں قرآن مجید کی بے حرمتی اور توہین کے خلاف عظیم احتجاجی مظاہرہ// تصویری رپورٹ(2)

- توہین قرآن کے خلاف تہران کے نمازیوں کا احتجاج