اطلات کے مطابق جلوس عزا صدر دوا خانے سے آگے گیا ہی تھاکہ ایک فلیٹ کے اندرپہلے سے چھپے بیٹھے دہشت گردوں نے اچانک فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں کم ازکم سات عزادار زخمی ہوگئے ۔ اس واقعے بعد جلوس عزا کو کچھ دیر کے لئے روک دیا گیا ۔ کراچی سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق سیکورٹی پر موجود ریجنرز پولیس نے مذکورہ فلیٹ کا محاصرہ کرلیا جس کے بعد دہشتگردوں نے ان پر بھی فائرنگ کی تاہم سیکورٹی اہلکاروں نے تمام دہشتگردوں پر قابو پالیا ہے۔کراچی کی ایک مقامی سماجی تنظیم کے عہدیدار محمد علی رضوی نے ریڈیو تہران کے ساتھ اپنی گفتگو میں بتایا ہے کہ لوگ سخت بھپرے ہوئے ہیں اور یہ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ انتظامیہ اور کچھ بااثر نادیدہ قوتیں دہشت گردوں کو، کہ جنکی تعداد پانچ ہے، باحفاظت نکالنے کی کوشش کررہی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ البتہ الگ بات ہے که یہ لوگ گرفتار ہونے کی صورت میں بھی حتی جیل سے فرار ہوسکتے ہیں یا پھر عدالت سے "شواہد نہ ہونے کی بنا پر" بری ہوسکتے ہیں! حکومت جو ہوئی ان کی!
۔۔۔۔۔۔۔
/110