ہوانا میں سرکاری میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں سابق امریکی صدر بش جب بھی تقریر کرتے تھے تو اس سے پہلے اُسامہ بن لادن کا بیان، ویڈیو یا آڈیو پیغام آجاتا تھا اور بش کی مقبولیت میں اضافہ اور اُنہیں مظالم جاری رکھنے کا جواز ملتا تھا اور پریس ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق کیوباکےسابق رہنما فیڈل کاسٹرو نے کہا کہ امریکی صدربش کوجب بھی دنیامیں خوف پھیلانے اور تقریر کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی تو بن لادن ظاہر ہوجاتا تھا اور عوام کو اپنی کاروائی سے ڈراتا تھا۔

کاسترو کا کہنا تھا کہ امریکی سی آئی اے کا تنخواہ دار ہونے کے باعث اُسامہ سابق امریکی صدر بش کا ماتحت بن چکا تھا اور صدر بش کو ہمیشہ اُس کی حمایت حاصل رہتی تھی۔
کیوبا کےسابق رہنما نے کہا کہ امریکہ کے فوجی دستاویزات نے بھی جو ابھی حال ہی میں ویکی لیکس کے ذریعےمنظرعام پر آئی ہيں یہ ثابت کردیا ہےکہ بن لادن سی آئی اے کا ایجنٹ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110
- امریکہ نے اگر ایٹمی جنگ چھیڑی تو وہ خود بھی تباہ ہوجائے گا