27 اگست 2010 - 19:30

پاکستان میں آج صبح چھ بجے پشاور کینٹ کے علاقے میں امریکی قونصیلٹ کے قریب حساس ادارے کی عمارت پر شدت پسندوں نے قبضہ کیا اور فائرنگ شروع کر دی ،شدت پسندوں کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ پون گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد کچھ دیر کے لئے اس میں وقفہ ہوا تاہم کچھ دیر بعد ہی پھر سے فائرنگ کا سلسہ شروع ہو گیا۔

سیکورٹی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز نے عمارت کا محاصرہ کر لیاہے۔جبکہ صدر کینٹ کے تمام داخلی ار خارجی راستے بند کر دئے گئے ہیں جبکہ ،پشاور کے کچھ علاقوں کو سیکورٹی خدشات کے پیش نظر سیل کر دیا گیا ہے۔فائرنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔پولیس تاحال شدت پسندوں کی تعداد اور ان کے پاس موجود اسلحے کا پتہ نہیں لگا پائی ہے،سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے کہاہے کہ پشاور میں تفتیش کے لئے لائے گئے دہشت گردوں نے پہریداروں پر قابوپاکر عمارت پر قبضہ کرلیا، تاہم سیکورٹی اہلکاروں نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا ہے۔اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بدستور عمارت میں موجود ہیں اور انہوں نے دو اہلکاروں کو یر غمال بنا رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام وسائل بروئے کار لاکرمسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ یرغمال اہلکاروں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر بشیر بلورنے کہا ہے کہ امریکی قونصل خانہ کے گردو نواح میں صورتحال قابو میں ہے۔ بشیر بلور کا گھر پشاور کینٹ میں امریکی قونصل خانے کے سامنے واقع ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا ہے کہ دہشت گردوں کا کامیابی سے محاصرہ جاری ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ کچھ دیر میں دہشت گرد سرینڈر کردیں گے۔بشیربلور نے کہا کہ دہشت گرد کسی بھی شخص کو کوئی نقصان پہنچانے میں ناکام رہے۔ بشیر بلورنے کہا کہ دہشتگردوں کا کوئی مخصوص ہدف نہیں ہے سب نشانے پر ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر دہشت گردوں کے خلاف مکمل کامیابی تک کارروائی جاری رکھنے کا عزم کیا۔تفصیلات کے مطابق کینٹ کے علاقے میں امریکی قونصلیٹ کے قریب مسلح افراد کی جانب سے شدید فائرنگ کے باعث سیکورٹی فورسز نے قونصلیٹ سے یونیورسٹی روڈ کی طرف جانے والی ٹریفک کو بند کردیاہے ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قونصلیٹ کے قریب پہلے ہلکی نوعیت کا دھماکا سنا گیا جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔آخری خبریں آنے تک علاقے میں سیکورٹی انتہائی سخت تھی اور کسی کو علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110