27 اگست 2010 - 19:30

ویکی لیکس نے اپنی رپورٹ ميں کہا ہے کہ سی آئی اے پاکستان اورہندوستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں دہشت گردی کرارہی ہے ۔

اخبارواشنگٹن پوسٹ نے ویکی لیکس کی اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خبردی ہے کہ سویلین انٹرنیٹ ویب سائٹ نے سی آئی اے کی پندرہ ہزار خفیہ دستاویزات میں سے ایک دستاویزجاری کردی ہے اخبارواشنگٹن پوسٹ کے مطابق میمو نام کی اس خفیہ دستاویز سے ثابت ہوگیا ہے کہ سی آئي اے پاکستان ہندوستان اورديگرملکوں ميں دہشت گردی اوردہشت گرد منصوبوں میں ملوث ہے یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان وبلوچستان میں دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دینےوالے ريگی دہشت گرد گروہ کے سرغنہ عبدالمالک ريگی نےبھی اپنے اعترافی بیان میں صاف لفظوں ميں کہا تھا کہ سی آئی اے کے اہلکار ایران کے اندر دہشت گردانہ کاروائياں انجام دینے کے لئے اس کی ہرطرح کی مدد کرتے تھے ۔ویکی لیکس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے القاعدہ کوامریکہ کے پر حملہ کرنے اوردہشت گردوں کواپنے ساتھ ملانے کا موقع فراہم کررہی ہے ۔ اس خفیہ دستاویز میں ایجنسی نے وہائٹ ہاؤس سے کہا ہے کہ اگرامریکہ کے اتحادیوں کو سی آئی اے کی اس سرگرمی کا علم ہوگيا تو وہ گیارہ ستمبرکے بعد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں تعاون چھوڑدیں گے ۔ تین صفحات والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی کی گرفتار ی اوراس کے بیانات سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ امریکہ ديگر ممالک میں دہشت گردی کرارہاہے ۔ ویکی لیکس رپورٹ سے پہلے عراق میں بہت سے باخبرذرا‏ئع اس بات کا انکشاف کرچکے ہيں کہ عراق میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں میں امریکہ کا پورا پورا ہاتھ ہے کنیڈا میں گلوبلائزیشن پر تحقیق کرنے والے سینٹر کے سربراہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے عراق میں ڈیتھ اسکواڈز تیار کررکھے ہيں جو کہيں بھی اورکسی بھی وقت بھی دہشت گردانہ اقدامات انجام دیتے ہیں ۔ اس درمیان پاکستان میں بھی باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سے بلیک واٹر یا نام سے موسوم امریکہ کی سیکورٹی کمپنیاں اس ملک میں سرگرم ہوئي ہيں پاکستان کے اندر دہشت گردانہ واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی سیکورٹی کمپنی زی کے اہلکاروں کا دائرہ اسلام آباد اورپیشاور سے پاکستان کے دوسرے شہروں تک پوری طرح پھیل گیا ہے اوراب اس کے اہلکار سڑکوں پرموٹرسائیکلوں اورگاڑیوں پر کھلے عام پھرتے ہيں ۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110