اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں جمعرات کی شام مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ سے جو چار نوجوان زخمی ہوئے تھے جمعہ کی صبح ان میں سے اُنیس سالہ مدثر احمد حجام نے سرینگر کے شیر کشمیر ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ اس سے قبل جمعرات کی صبح جنوبی ضلع کولگام کے آّٹھ سالہ میلاد احمد کی موت بھی اسی ہسپتال میں ہوئی۔ بارہ اگست کو فورسز کی فائرنگ کے دوران میلاد کے سر میں گولی لگی تھی۔ہلاکتوں کے بعد مظاہروں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیااس دوران حکام نے سوپور اور بارہ مولہ میں سخت کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ جنوبی ضلع اننت ناگ میں سکیورٹی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔واضح رہے کہ گیارہ جون سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سوپور کے مدثر اور کولگام کے میلاد کی موت کے بعد ہلاکتوں کی تعداد اکسٹھ ہوگئی ہے۔اور احتجاجی مظاہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں 20 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ کولگام کے جنوب میں ہفتے کو بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے لڑکے نے جمعرات کو اسپتال میں دم توڑ دیا۔جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں 20 مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔کشمیری مسلمان اور تحریک آزادیہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں تحریک آزادی کی لہر ہر آئے دن نئی قربانیاں پیش کر کے آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ روزانہ ہزاروں کی تعدادمیں مسلمان کرفیو توڑ کر ریلیاں نکالتے ہوئے اپنا کشمیر چھوڑ دو کے نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنا آزادی کا حق طلب کرتے ہیں۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کرفیو نافذ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگي پسندوں کی جانب سے ہڑتال کی کال کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جبکہ پولیس فائرنگ میں چھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ سری نگر کے علاوہ بیج بہارا اور ترہگام قصبوں میں اتوار کو کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اس کے علاوہ اننت ناگ اور بارہ مولہ میں لوگوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہےاسی دوران سری نگر کی قریبی قصبے چھتابل میں پولیس فائرنگ میں چھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اتوار کی دوپہر پر مسجد سے باہر نکلتے ہوئے لوگوں کو پولیس نے پیٹنا شروع ک ردیا۔کشمیر میں گزشتہ آٹھ ہفتوں سے کرفیو نافذ ہے۔ اس دوران کبھی کبھی کرفیو میں ایک دن کی نرمی دی گئی ہے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس فائرنگ اور دیگر واقعات میں میں 62 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں بیشتر نوجوان بچے شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110