کراچی:فائرنگ و پرتشدد واقعات میں46افراد ہلاک، 123زخمی کراچی کے مختلف علاقوں میں جاری فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں46 افراد ہلاک اور123 زخمی ہوگئے،جبکہ شہر میں30 سے زائد گاڑیاں،پیٹرول پمپ اور متعدد دکانیں بھی جلائی جاچکی ہے، جس کے باعث کشیدگی برقرار ہے اور کاروبار زندگی معطل ہوگئی ہے، دوسری جانب اندرون سندھ بھی کئی شہروں میں سوگ کی فضا طاری ہے اور مکمل ہڑتال کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی رضا حیدر کی اپنے محافظ سمیت شہادت کے بعدکراچی کے مختلف علاقوں میں ہنگامے ہوئے۔ بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، ابوالحسن اصفہانی روڈ، گلستان جوہر، لانڈھی اور کورنگی سمیت دیگر علاقوں میں فائرنگ،جلاؤ گھیراؤ اور پرتشددواقعات پیش آئے۔ آج کراچی کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں اور امتحانات ملتوی کردیے گئے۔ صبح سے کراچی کے مختلف علاقوں میں کشیدگی برقرارہے۔شہر میں خوف وہراس ہونے کے سبب سڑکیں سنسان اور بازاربند ہیں۔سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری و نجی دفاتر میں حاضری انتہائی کم ہے۔وزیر داخلہ رحمان ملک کی ہدایت پر متاثرہ علاقوں میں پولیس اور رینجرز کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ لیاقت آباد میں نامعلوم شرپسندوں نے جیونیوزکی اسٹاف وین کو آگ لگادی ۔علاوہ ازیں حیدرآباد، میر پور خاص، عمر کوٹ، سانگھڑ، سکھر سمیت کئی علاقوں میں ہڑتال ہے، اور کاروبار زندگی معطل ہے جبکہ میرپور خاص میں سلائی سینٹر اور پانچ گاڑیوں کو جلادیا گیا۔ ادھر سکھرکے علاقوں پیر چوک، دادو چوک اور شیخ شہین روڈ پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔ رضا حیدر کی نماز جنازہ سکیورٹی پلان تیار کرلیا گیا متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رضا حیدر کی نماز جنازہ کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے سیکیورٹی پلان تیار کرلیا گیا ہے پولیس اور رینجرز کے اہلکار متحدہ کے کارکنوں کے ساتھ مل کر جناح گراؤنڈ، جنازے کے جلوس کے راستے اور قبرستان کی سکیورٹی کریں گے۔کراچی پولیس چیف وسیم احمد نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے فول پروف سکیورٹی پلان تیار کیا ہے۔ مجھ سمیت پولیس کے اعلیٰ حکام نے نائن زیرو پر متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے ملاقات کی ہے اور جناح گراؤنڈ کا دورہ کیا ہے وسیم احمد کے مطابق جناح گراؤنڈ کے داخلی راستوں پر10 واک تھرو گیٹس لگائے جارہے ہیں جبکہ وی آئی پیز کے الگ راستہ ہوگا۔ جنازے کے جلوس کے آغاز اور اختتام پر دو ایس ایس پی رینک کے افسران ہوں گے۔ راستے کی تمام بلند عمارتوں پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے جلوس کے راستے کی تمام گلیوں کو ابھی سے بند کردیا گیا ہے اور جنازے کے جلوس کے موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے رضاکار ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر دونوں اطراف میں کھڑے ہوں گے تاکہ کوئی شخص راستے سے جلوس میں شامل نہ ہوسکے جناح گراؤنڈ، جلوس کے راستے اور شہدا قبرستان میں کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں جبکہ فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہے گی۔ کراچی میں چھاپے، کالعدم تنظیموں کے 20سے زائد افراد گرفتار کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے کہا ہے کہ گذشتہ رات اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ اور سی آئی ڈی کی ٹیموں نے مختلف کارروائیوں میں کالعدم مذہبی تنظیموں سے وابستہ20سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔کراچی میں جیو نیوزسے گفتگو میں وسیم احمد نے کہا کہ رکن سندھ اسمبلی رضا حیدر کی شہادت کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں کالعدم مذہبی تنظیموں کیخلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ رضا حیدر کی شہادت میں ملوث ملزمان سے متعلق ٹھوس شواہد مل چکے ہیں۔ رضا حیدر کے قتل میں کالعدم تنظیموں کا نیٹ ورک ملوث ہے جس میں جن میں تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ شامل ہیں۔رضا حیدر دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر تھے، رحمان ملک وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے دعوی کیا کہ رضا حیدر دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر تھے، ان کا قتل فرقہ وارانہ دہشت گردی ہے۔وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ رضا حیدر کی نماز جنازہ میں خود کش حملے کا خطرہ ہے۔وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے جیونیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہونے والے واقعے میں پاکستان دشمن عناصر ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ رضا حیدر اور منظر امام دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر تھے، انہوں نے کہا کہ ٹریس کی گئی فون کالز سے ملنے والی اطلاعات پر خطرے سے آگاہ کر دیا تھا، اوران کو خطرے کے پیش نظر پولیس اہلکار فراہم کیے گئے تھے۔ رحمان ملک نے کراچی میں ہونے والے واقعے پر کہا کہ اس قسم کے واقعات پر عوام مشتعل ہوتے ہیں، او سینئر رہنما کے قتل پر ردعمل فطری ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ حساس علاقوں میں رینجرز تعینات کردی گئی ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ کراچی میں دو سیاسی جماعتوں کو لڑانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سپاہ صحابہ اور تحریک طالبان پاکستان نے رضا حیدر کے قتل کا منصوبہ تیار کیاتھا۔ انھوں نے کہا کہ اکتوبر2009 میں منصوبے میں شامل شرجیل کو پکڑ ا گیا تھا جبکہ اس کے دوسرے دو ساتھیوں میں شکیل برمی اور ڈاکٹر اقبال تھے۔ شکیل برمی وزیرستان گیا تھا اور قاری حسین سے ملاقات میں دو خود کش حملہ آوروں کا مطالبہ کیا تھا، ایک رضا حیدر کو قتل کرنے اور دوسرا ان کے جنازے پر حملہ کرنے کیلئے۔ انھوں نے کہا کہ رضا حیدر دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر تھے، ان کو خطرے سے آگاہ کیا ہوا تھا اور انھیں خبر دار کیا ہوا تھا کہ پبلک مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ انھوں نے کہا کہ رضا حیدر کے جنازہ پر دہشت گردی کا خطرہ ہے اور اس حوالے سے ایم کیو ایم کی لیڈر شپ کو آگاہ کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے دعوی کیا کہ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ اور تحریک طالبان کے نیٹ ورک کو ختم کریں گے۔ اسلحہ، ڈرگ مافیاکیخلاف آواز اٹھانے کی سزا دی جارہی ہے، ایم کیوایم کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کے رکن انیس احمد قائم خانی نے کہا کہ ایم کیوایم کو اسلحہ، ڈرگ مافیا کیخلاف آواز اٹھانے کی سزا دی جارہی ہے۔ رضا حیدر ہمارے دیرینہ ساتھی تھے، برے حالات میں بھی تحریک سے جڑے رہے، 23 جولائی کو یونٹ پر مسلح دہشت گردوں نے حملہ کیا جس سے کارکن شہید ہوئے،جمیل خانزادہ کو قبرستان میں فائرنگ کرکے شہید کیا گیا، ہم بدلے کی بات کرسکتے تھے تاہم نہیں کی۔انیس احمد قائم خانی نے کہا کہ اے این پی لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا کی سرپرستی ختم کرے، اے این پی کی خیبر پختونخوا اور سندھ میں الگ الگ پالیسی ہے، ظلم کے آگے نہ ماضی میں سرجھکایا اور نہ جھکائیں گے، اللہ ہمارے شہیدوں کی قربانیوں کو قبول فرمائے، اس سانحے پر ہمدردی کا اظہار کرنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں، قائد تحریک الطاف حسین نے طالبانائزیشن کے بارے میں آگاہ کیا، الطاف حسین کی نشاندہی پر صوبائی حکومت نے توجہ نہیں دی۔ صدر اور وزیراعظم سے گزارش ہے کہ رضا حیدر کی شہادت پر اعلیٰ سطح کی انکوائری کرائی جائے اور قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔انیس قائم خانی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ایم پی اے رضا حیدر کے قاتلوں کی گرفتاری چاہتے ہیں۔ الطاف حسین کی اپیل پر خیبر پختونخوا کے شہریوں کے لیے امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے، اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ کراچی آنے والے طالبان کو کہاں چھپنے کی جگہ ملتی ہے۔ اے این پی کراچی میں طالبان کی حمایت کررہی ہے، طالبان اور جہادی تنظیمیں کراچی کے مختلف علاقوں میں پناہ گاہیں بنارہی ہیں۔انہوں نے رحمان ملک سے سوال ہے کہ جب دہشت گردوں کی کارروائی کا پہلے سے علم تھا تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔
رضاحیدرکے قتل کامقدمہ نامعلوم افرادکیخلاف ناظم آبادتھانے میں درج متحدہ قومی موومنٹ کے مرحوم راہنما رضاحیدرکے قتل کامقدمہ ناظم آبادتھانے میں درج کرادیا گیا ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق رضاحیدرکے قتل کامقدمہ نامعلوم افرادکیخلاف درج کیا گیا۔ مقدمہ دفعہ302اور324کے تحت درج کیاگیا۔مقدمہ رضاحیدرکے بھانجے کی مدعیت میں درج کیاگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
- دہشت گردوں کی فائرنگ سے شیعہ رکن سندھ اسمبلی رضا حیدر شہید