تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے شیعہ رکن سندھ اسمبلی رضا حیدر اپنے گن مین خالد خان کے ساتھ اپنی ایک عزیزہ کے جنازے میں شرکت کے لیے ناظم آباد نمبر دو میں واقع جامع مسجد پہنچے تھے، جہاں نماز جنازہ سے قبل وہ وضو کے لیے مسجد کے وضو خانے میں گئے اور اسی دوران حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کردی ۔ پولیس کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں سے بچنے کے لیے رضا حیدر مسجد میں اندر کی جانب بھاگے لیکن حملہ آوروں نے انہیں مہلت نہیں دی اور ان پر کلاشنکوف سے فائرنگ کردی۔پولیس کے مطابق اس سے قبل ان کے گن مین کو مسجد کے دروازے پر ہی فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا تھا۔رضا حیدر موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ گن مین خالد خان نے اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور دہشت گردوں کی تعداد کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ہے تاہم وہ ایک سفید کار اور ایک موٹرسائیکل پر فرار ہوئے ہیں۔ پولیس کو موقع سے کلاشنکوف کے چار خول ملے ہیں۔ واقعے کے بعد شہر بھر میں کشیدگی پھیل گئی دکانیں اور کاروبار بند ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ارکان ۔ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور کارکنوں کی بڑی تعداد عباسی شہید اسپتال پہنچ گئی۔اس موقع پر کارکن آپس میں گلے مل کر روتے رہے۔ شہید رضا حیدر کی میت پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی اسپتال سے امام بارگاہ باب العلم منتقل کردی گئی۔واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ویسٹ سلطان خواجہ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم قائم کردی گئی ہے۔
بشکریہ از جنگ
........
/110