18 اکتوبر 2010 - 20:30

الجزائر میں القاعدہ کے سابق راہنما نے اپنے آپ کو سرکاری سیکورٹی اداروں کی تحویل میں دے کر اعتراف کیا کہ وہ گمراہ تھا؛ اس نے دہشت گرد ٹولے "القاعدہ" کے اراکین اور ہواخواہوں سے درخواست کی ہے کہ اپنا رویہ بدل دیں اور اسلام کے نام پر تشدد آمیز اقدامات ترک کردیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی سے توبہ کرنے والے القاعدہ کے سابق الجزائری راہنما نے اس ٹولے کے مسلح دہشت گردوں سے درخواست کی ہے کہ وہ مسلحانہ اقدامات چھوڑ کر اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔القاعدہ کے اس سابق رہنما "عثمان تواتی" المعروف "ابوالعباس" نے دشوار گزار علاقوں میں موجود القاعدہ کے مسلح دہشت گردوں سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ وہ اپنے تشدد آمیز اقدامات سے ہاتھ کھینچ لیں اور اپنے ماضی پر نظر ثانی کرکے دیکھ لیں کہ اتنے طویل عرصے تک درندگی اور وحشیانہ اقدامات کرکے انھوں نے کیا پایا ہے؟تواتی نے اعتراف کیا: "القاعدہ میں جاکر، میں درحقیقت گمراہ ہوگیا اور طویل عرصے تک گمراہ رہا اور جبکہ دین اسلام  رحمت و عدل و سکوں کا دین ہے  القاعدہ کے تمام اقدامات اس دین کی تعلیمات کے منافی ہیں"۔عثمان تواتی نے اس سال پچیس مئی کو القاعدہ کے دہشت گردی کیمپ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں کے سامنے ہتھیار ڈال دیا اور خود کو حکومت کی تحویل میں دیا۔ تواتی ایک دہشت گرد لیڈر ہے اور اس کے اعترافات ایسے حال میں سامنے آرہے ہیں کہ اس ٹولے کے سرغنے اپنی خونریزیوں اور انسانیت کشیوں، درندگیوں اور خون آشامیوں کی توجیہ میں اسلام کا حوالہ دیتے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ گویا وہ سب کچھ اسلامی تعلیمات کے تحت کررہے ہیں لیکن وہ خوارج کی مانند اپنے آپ کو ہی مسلمان سمجھتے ہیں اور اپنے سوا دوسروں کو غیر مسلم اور واجب القتل قرار دیتے ہیں خواہ وہ اعتقادی حوالے سے سنی العقیدہ ہی کیوں نہ ہوں؛ گوکہ اہل تشیع کے بارے میں ان کی ابتدائی ذہنیت انہیں شیعیان آل محمد (ع) کے خلاف کسی بھی تشدد آمیز اقدام کا جواز فراہم کرتی ہے تا ہم وہ کبھی سوچتے نہیں اور سمجھنے بوجھنے کی کوشش ضروری نہیں سمجھتے اور کسی کی سوچ یا عقیدے کا مطالعہ کرنا ان کی منطق کے مطابق حرام ہے؛ در حقیقت دہشت گردوں کے تمام وہابی ٹولوں کا رویہ یہی ہے کہ اگر کوئی ان کی سوچ سے بھی اختلاف کرے تو اسے بر سر بازار ذبح کرنے کا مستحق سمجھتے ہیں اور اگر ان میں طاقت ہو اور موقع میسر آئے تو اس مذموم اور غیر انسانی سوچ کو عملی جامہ پہنانے سے بھی گریز نہیں کرتے؛ سوال یہ ہے کہ جو شخص یا گروہ انسانیت سے عاری ہو وہ مسلمان کیسے ہوسکتا ہے؟ اور جو شخص مسلمان نہ ہو وہ کسی اسلامی فکر اور اسلامی تحریک کی قیادت کیونکر کرسکتا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عالم اسلام میں دہشت گرد ٹولوں کی تربیت و پرورش اور سرپرستی عالمی استعمار و استکبار اور صہیونیت کے ہاتھوں میں ہے اور حقوق انسان، بچوں کے حقوق اور حقوق نسواں ـ حتی کہ حقوق حیوانات ـ کے نام نہاد علمبردار ان کی حمایت کررہے ہیں اور وہ نہ تو عورتوں پر رحم کرتے ہیں نہ بچوں پر اور نہ ہی انسان پر ؛ گذشتہ کئی برسوں سے صرف پاکستان میں ہزاروں انسان ان ہی ٹولوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے ہیں جن میں انسانیت کے تمام طبقے اور معاشرے کے تمام گروہ اور مکاتب کے تمام شعبوں کے پیروکار شامل ہیں۔ انھوں نے عالم اسلام میں مسلمانوں کے لئے زندگی اجیرن کردی ہے اور دنیا کی سطح پر انسانیت کش اقدامات کرکے اسلام کی بدنامی کا باعث بن گئے ہیں اور آج یورپ اور مغربی دنیا میں رسول اللہ (ص) کی توہین کے لئے بین الاقوامی مقابلے منعقد کرائے جاتے ہیں اور جو شخص سب سے زیادہ سنگین جرم کا ارتکاب کرکے سب سے بھونڈی توہین کا مرتکب ہوجائے مغربی ممالک میں اس کو انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے اور مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کی زندگی بھی ان ہی نے مشکل بنا دی ہے اور آج پوری دنیا میں مسلمانوں کو شدید امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔........./110