18 اکتوبر 2010 - 20:30

حکومت نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم کیلئے نیا بل سینیٹ میں پیش کردیا ہے، جس میں اس قانون کو مزید سخت بنانے کیلئے کئی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

تجویز کی گئی ترامیم کے تحت دہشت گردی کے الزام میں گرفتار شخص کو90دن حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے انسدادی دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کا بل سینیٹ اجلاس میں پیش کیا ۔بل میں کہا گیا ہے کہ اسلحہ کے زور پر سرکاری اور نجی جائیداد کو نقصان پہنچانا ، قانون نافذ کرنے والے ادارے کیخلاف مزاحمت کرنا اور غیرقانونی ایف ایم ریڈیو قائم کرنا دہشت گردی تصور کیے جائیں گے۔ایکٹ کے تحت کم از کم سزا10 برس تجویز کی گئی ہے جبکہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار شخص کو90 دن حراست میں رکھا جاسکے گا جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔انسداد دہشت گردی ایکٹ کے ملزم کا ٹرائل ، بند کمرہ عدالت میں ہوگا، اس سے پہلے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں خامیوں کی وجہ سے دہشت گردی کی بڑی وارداتوں کے ملزم رہا ہوئے ہیں ، ڈپٹی چئرمین سینیٹ نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ترمیمی بل پر ارکان اپنی تجاویزدیں اورمنظوری میں جلدی نہ کی جائے.

............

/110