17 ستمبر 2010 - 19:30

سرگودھا کے بلاک کی امام بارگاہ میں دہشت گردوں کے خودکش حمے کے نتیجے میں ایک فرد شہید اور 18 افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں جبکہ مزید شہادتوں کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق دھماکاسرگودھا کے بلاک19 کی واقع امام بارگاہ میں مغرب کی اذان کے دوران ہوا جسے خود کش حملہ کہا جارہا ہے تاہم ابھی سرکاری ذرائع سے خودکش دھماکے کی تصدیق نہیں ہو ئی۔

وقوعہ کے وقت سیکیورٹی کے خاص انتظامات نہیں تھے، دھماکے کے وقت دو سو سے زائد افراد مسجد میں موجود تھے۔

واقعے کے بعد وہاں بھگدڑ مچ گئی جس کے بعد ٹریفک جام ہو گیا۔

دھماکے کے بعد پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

18شدید زخمیوں کو قریب ہی واقع اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

ادھر شیعیت نیوز نے لکھا ہے کہ خود کش حملہ اس وقت ہو اجب دارالعلوم محمدیہ میں نماز مغربین ادا کی جا رہی تھی کہ دہشت گرد نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجہ میں درجنوں شیعہ مظلومین زخمی ہو گئے۔یاد رہے کہ دارلعلوم محمدیہ مسجد و امام بارگاہ کی انتظامیہ کو کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں تاہم پنجاب حکومت کی نا اہل انتظامیہ نے مسجد و امام بارگاہ کی سیکیوریٹی کے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جس کے سبب سانحہ رونما ہوا۔قابل ذکر ہے کہ دارالعلوم محمدیہ مسجد و امام بارگاہ قیام پاکستان سے قبل سے قائم ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے داتا دربار پر بھی اسی طرح خود کش حملے کئے گئے تھے تاہم پنجاب حکومت جو کہ کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اورلشکر جھنگوی کے ناصبی دہشت گردوں کی سر پرستی میں مصروف عمل ہے اور دہشت گرد کھلم کھلا پنجاب میں مظلوم عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔دوسری جانب دھماکے کے بعد گھنٹوں تک پولیس جائے وقوعہ پر نہ پہنچ پائی جو کہ حکومت کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔

........

ایک وضاحت:

تازہ ترین رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی اس کاروائی میں کوئی شیعہ شہید نہیں ہوا اور زخمیوں کی تعداد بھی 14 تھی جبکہ ہلاک ہونے والا شخص بظاہر خودکش حملہ آور تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110